شریعت اور تطبیق شریعت
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۴
اور متعدد ہیں اور صورت حال کسی وقت خاص میں عملاً بدستور ایک ہے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، موجودہ قرآن نزولی ترتیب پر نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جس ترتیب سے قرآن کی آیتیں اتریں اسی ترتیب سے وہ مصحف میں جمع کر دی گئیں۔ یہ غیر نزولی ترتیب غالباً مصلحت امتحان کی بنا پر ہے۔ وہ امتحان یہ ہے کہ مسلمان اپنی بے آمیز عقل کو استعمال کر کے یہ دریافت کریں کہ مختلف احکام میں سے وہ کون سا حکم ہے جو بروقت ان سے مطلوب ہے۔ یہ امتحان اپنی نوعیت کے اعتبار سے ویساہی ایک امتحان ہے جس دور اول کے مسلمان مبتلاء کئے گئے تھے۔ دور اول کے مسلمانوں کا امتحان یہ تھا کہ وہ مختلف مدعیان ہدایت میں سے اس ہادی کو دریافت کریں جو اللہ کے نزدیک ہادی بر حق ہے۔ اسی طرح بعد کے مسلمانوں کے لئے یہ امتحان ہے کہ وہ مختلف اور متنوع احکام میں سے اس حکم کو دریافت کریں جو کسی وقت خاص میں اللہ کے نزدیک ان سے مطلوب ہے۔ پیغمبر کا ظہور اس کے ہم عصر لوگوں کے لئے معرفت ہادی کا امتحان تھا۔ قرآن کی غیر نزولی ترتیب بعد کے لوگوں کے لئے معرفت ہدایت کا امتحان ہے۔ بعد کے لوگوں کو اس امتحان میں اسی طرح پورا اترنا ہے جس طرح دور اول کے اہل ایمان اسی نوعیت کے امتحان میں ڈالے گئے اور کامیاب ہوئے۔ پیغمبر اور اس وقت کے اہل ایمان اسلام کے ابتدائی دور میں ۱۳ سال تک مکہ میں رہے۔ اس وقت وہاں مشرکین کے سردار غالب حیثیت میں تھے۔ وہ پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کو ستاتے تھے اور ان کے اوپر ظلم کرتے تھے۔ اب یہ سوال تھا کہ ان حالات میں اہل اسلام کیا کریں۔ اس وقت انہیں یہ رہنمائی دی گئی کہ : ولنصبرن على ما آذيتمونا (ابراہیم ۱۴) یعنی ظلم و زیادتی کے باوجود صبر کے طریقہ پر قائم رہو۔
اس طرح بروقت ہدایت کے مطابق اہل اسلام کو یہ معلوم ہو گیا کہ ان حالات میں انھیں کیا کرنا ہے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ خواہ فریق ثانی کی طرف سے ظلم کیا جا رہا ہو مگر انہیں یک طرفہ طور پر صبر کی روش پر قائم رہنا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues