Al-Risala · February 2001 · page 25

شریعت اور تطبیق شریعت

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۵

اس کے بعد وہ وقت آتا ہے کہ پیغمبر اور آپ کے ساتھی ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔ مگر اب حالات بدل چکے تھے۔ چنانچہ نئے حالات میں حکم بھی بدل گیا۔ اس سے پہلے جس ظلم پر صبر کی ہدایت دی گئی تھی اس ظلم کے بارے میں اب یہ ہدایت دی گئی کہ ایسے ظالموں کے خلاف قتال کرو: أذن للذين يُقتلون بانهم ظلموا (الحج ۳۹)

اس سے معلوم ہوا کہ کبھی ظلم کے مقابلہ میں دفاع مطلوب ہوتا ہے۔ اور کبھی یہ مطلوب ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہ کرتے ہوئے صرف صبر کیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم ہو کہ کس صورت حال میں صبر و برداشت کا طریقہ اختیار کرنا ہے اور وہ کون سی صورت حال ہے جب دفاعی قتال جائز ہو جاتا ہے۔

دورِ اول کے اہل اسلام کو اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے خود کوئی فیصلہ نہیں کرنا تھا۔ کیوں کہ عملاً جو صورت حال ہوتی تھی اسی کے مطابق جواب آسمان سے نازل ہوتا تھا۔ اس طرح سوال اور جواب دونوں بیک وقت اپنے آپ معلوم ہوتے رہتے تھے۔ مگر بعد کے مسلمانوں کے لئے یہ صورت حال باقی نہیں رہی۔ بعد کے زمانہ کا معاملہ یہ ہے کہ حالات کی نسبت سے سوال تو موجود ہے مگر اس کا جواب مسلمانوں کو خود تلاش کرنا ہے۔ یہی بعد کے زمانہ کے اہل اسلام کا امتحان ہے۔ دورِ اول کے اہل اسلام کا امتحان اگر رسول کو پہچاننا تھا تو بعد کے لوگوں کا امتحان حکم رسول کو پہچاننا ہے۔ اب قرآن میں مذکورہ دونوں قسم کی آیتیں ایک ساتھ موجود ہیں۔ اب خود اہل اسلام کی یہ اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ بے آمیز غور و فکر کے ذریعہ یہ جانیں کہ کسی وقت خاص (given situation) میں کون سا حکم ان کو اپنے اوپر چسپاں کرنا ہے، اور کس حکم کو اس وقت خاص میں اپنے لئے گویا عملاً موقوف سمجھنا ہے۔ حکم کی اس نوعیت کا تعین پہلے وحی کے ذریعہ براہ راست ہوتا تھا اور اب یہ تعین ہمیں ذاتی اجتہاد کے ذریعہ کرنا ہے۔

ایک اور مثال لیجئے۔ پیغمبر اور آپ کے ساتھی جب مکہ میں تھے اس وقت بھی مشرکین

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page