Al-Risala · January 2001 · page 10

تاریخ کا مطالعہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۰

یہ گویا پیغمبر کی زبان سے ایک خدائی انتباہ (warning) ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے یہ خصوصی امتیاز دیا ہے کہ اس کو کامل آزادی عطا فرمائی ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ انسان کو یہ جاننا چاہئے کہ اگر وہ اپنی آزادی کا لا محدود استعمال کرے گا تو وہ اس دنیا میں انار کی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ اس بنا پر انسان کے لئے درست طریقہ یہ ہے کہ وہ خدا کے پیغمبر کی ہدایت (guidance) سے فائدہ اٹھائے۔ وہ اپنی آزادی کو جاننے کے ساتھ اپنی واقعی حدود کو بھی جانے، جو پیغمبر کے ذریعہ اس کو بتائی جارہی ہے۔ حدود کی معرفت کے بغیر انسانی آزادی انار کی بن کر رہ جاتی ہے، اور حدود کی معرفت کے ساتھ انسانی آزادی اسی طرح اپنی ایک کامل دنیا کی تخلیق کر سکتی ہے جس طرح مادی دنیا ایک کامل نمونہ کی صورت میں نظر آرہی ہے۔ اس دنیا میں ہمیں انسانی تشکیل کے دو واضح نمونے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک وہ جس کو روسی ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ دوسرا وہ جس کو امریکی ماڈل کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، روسی ماڈل ۷۵ سالہ تجربہ کے باوجود مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ وہ قابل بقاء (sustainable) ثابت نہ ہو سکا۔ اس کے بر عکس امریکی ماڈل سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت سے چلا جا رہا ہے۔ بظاہر وہ پوری طرح قابل بقاء (sustainable) ہے۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ روسی ماڈل تو ضرور قابل رد ہے، مگر امریکی ماڈل قابل رد نہیں، حالانکہ امریکی ماڈل کو پیغمبرانہ ہدایت کی بنیاد پر قائم نہیں کیا گیا، اور نہ وہ پیغمبرانہ ہدایت کی بنیاد پر چلایا جارہا ہے۔

اس معاملہ کی حقیقت یہ ہے کہ امریکی ماڈل اگرچہ براہِ راست طور پر پیغمبرانہ ہدایت کی بنیاد پر قائم نہیں گیا مگر بالواسطہ طور پر وہ پیغمبرانہ ہدایت ہی کی جزئی تعمیل ہے۔ پیغمبرانہ ہدایت کا ایک پہلو وہ ہے جو آخرت کی کامیابی سے متعلق ہے۔ اس پہلو سے امریکی ماڈل مکمل طور پر پیغمبرانہ ہدایت سے دور ہے۔ مگر پیغمبرانہ ہدایت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ انسان اپنی دنیا کی تعمیر حقائق فطرت کی روشنی میں کرے۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی بابت پیغمبر اسلام نے فرمایا: انتم اعلم بأمر دنیا کم (صحیح مسلم)۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues

Printed page