شریعت اور تطبیق شریعت
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۶
وہاں موجود تھے اور ہجرت کے بعد بھی فتح مکہ تک مشرکین وہاں موجود رہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پہلے دور میں مکہ کے مشرکین کے بارے میں جو حکم دیا گیا وہ صرف یہ تھا کہ پر امن طریقِ کار کو اختیار کرتے ہوئے انہیں نظریہ توحید سے آگاہ کرو (قم فأنذر، أدع الى سبيل ربك بالحكمة) اس ہدایت کے مطابق پیغمبر اور آپ کے ساتھی مکہ میں لوگوں کے پاس جاتے اور ان کو قرآن کی نازل شدہ دعوتی آیتیں سناتے۔ ان کے مجامع کو خطاب کرتے ہوئے کہتے: ایها الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا (اے لوگو کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تم فلاح پاؤ گے) مگر ہجرت اور فتح مکہ کے بعد صورت حال بدل گئی اب انہیں مشرکین کے بارے میں قرآن کی سورہ برآۃ اتری جس میں ان کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا کہ: براءة من الله ورسوله الى الذين عاهدتم من المشركين (اعلان برآت ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین کو جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا) التوبہ ا۔
اس سورہ کے نزول کے بعد جو پہلا حج آیا اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے ایک وفد کو مکہ بھیجا۔ ان لوگوں نے وہاں جا کر مشرکین کے درمیان یہ اعلان کیا کہ : ان الله برئ من المشركين ورسوله (تفسیر ابن کثیر ۳۳۳/۲) یعنی اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہیں۔ کوئی عہد یا ذمہ داری اب مشرکین کے حق میں موجود نہیں۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ کے مشرکین کے مقابلہ میں جب دعوت و تبلیغ مطلوب تھی، اس وقت قرآن میں دعوت و تبلیغ کی آیتیں اتریں۔ اور جب ان کے مقابلہ میں برآت مطلوب ہو گئی تو اس وقت برآت والی آیتیں قرآن میں نازل ہوئیں۔ اس طرح حسب موقع خود آیات کے نزول کی ترتیب ہی اس بات کو جاننے کے لئے کافی ہو گئی کہ کس وقت انہیں کیا کرنا ہے اور کس وقت کیا نہیں کرنا ہے۔
بعد کے مسلمانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اب یہ صورت حال ہے کہ پورا قرآن بیک وقت مجلد صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اس میں دونوں قسم کی آیتیں ایک ساتھ پائی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues