Al-Risala · February 2001 · page 27

شریعت اور تطبیق شریعت

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۷

جاتی ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کو خود اپنے ذاتی اجتہاد سے یہ جاننا ہے کہ کس وقت خاص میں وہ اپنے آپ کو ایک آیت کا مخاطب سمجھیں۔ اور کس وقت خاص میں وہ یہ جانیں کہ اب وہ دوسری آیت کے مخاطب ہو گئے ہیں۔

یہی بعد کے زمانہ کے لوگوں کا امتحان ہے۔ دور اول کے لوگوں کا امتحان میں کامیاب ہونا یہ تھا کہ وہ رسول بر حق کو پہچانیں اور اس کو اپنا رہنما بنا لیں۔ اور ان کا امتحان میں ناکام ہونا یہ تھا کہ وہ رسول کو پہچاننے میں عاجز ثابت ہوں اور اس بنا پر اس کا ساتھ نہ دے سکیں۔ بعد کے زمانہ کے لوگ بھی امتحان کے اسی میدان میں کھڑے ہوئے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ اب پچھلے لوگوں کو ذاتِ رسول کو پہچاننا تھا اور آج کے لوگوں کو حکم رسول کو پہچاننا ہے۔ بعد کے زمانہ کے مسلمانوں کی کامیابی یہ ہے کہ وہ قرآن کے مختلف احکام میں سے اس حکم کو دریافت کریں جو ان کے حالات کے لحاظ سے ان سے مطلوب ہے۔ اور ان کا ناکام ہونا یہ ہے کہ وہ اپنے حق میں مطلوب حکم کو دریافت نہ کر سکیں۔ مثلاً اگر ان کے واقعی حالات کے لحاظ سے صبر و دعوت کی آیتیں ان پر منطبق ہوتی ہیں، ایسی حالت میں اگر وہ قرآن سے قتال کی آیتوں کو لے کر دوسری قوموں سے لڑنا شروع کر دیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے امتحان میں ناکام ہو گئے۔ یہ ناکامی بے حد سنگین ہے، یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ویسی ہی ناکامی ہے جیسے عہد رسالت میں آپ کا کوئی معاصر شخص آپ کے رسولِ خدا ہونے کو پہچاننے میں ناکام رہ جائے۔ اس پہچان کی کامیابی بھی بہت بڑی ہے اور اس کو نہ پہچاننے کی محرومی بھی بہت بڑی۔ ہدایت و ضلالت کا راز قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: يُضِلُّ به كَثِيراً ويهدي به كثيراً (البقرہ (۲۶) یعنی اللہ اس کے ذریعہ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو اس سے راہ دکھاتا ہے۔ قرآن بلاشبہ ایک بر حق کلام ہے۔ پھر کیوں ایسا ہے کہ قرآن کی باتوں سے کسی کو گمراہی ملتی ہے اور کوئی اس کو پڑھ کر ہدایت حاصل کر لیتا ہے۔ اس فرق کا خاص سبب ریفرنس کا فرق ہے۔ قرآن کو اگر اس کے صحیح

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page