Al-Risala · February 2001 · page 28

شریعت اور تطبیق شریعت

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۸

ریفرنس میں پڑھا جائے تو پڑھنے والے کو اس سے ہدایت ملے گی۔ اس کے برعکس اگر ریفرنس کو بدل دیا جائے تو وہی کلام آدمی کے لئے گمراہی کا سبب بن جائے گا۔

قرآن کو اس کے صحیح ریفرنس میں پڑھنے کی صورت یہ ہے کہ اس کو اسباب نزول کی روایتوں کی روشنی میں پڑھا جائے۔ حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں کثرت سے وہ روایتیں آئی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ قرآن کی کونسی آیت کس خاص موقع پر اتاری گئی۔ اسباب نزول کی یہ روایات نہ صرف قرآن کے ابتدائی مفہوم کو سمجھنے میں مددگار ہیں بلکہ بعد کے زمانہ میں بھی اس کے صحیح انطباق (application) کو جاننے کے لئے وہ معتبر رہنما کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسباب نزول کی روایات کی روشنی میں قرآن کے مطالعہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن ایک زمانی کتاب ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ حکم کی ابتدائی نوعیت کو سمجھا جائے تاکہ اس حکم کا وسیع تر انطباق دریافت کیا جاسکے۔

قرآن میں اکثر احکام اجمالی انداز میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچادو، پھر تم کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے (الحجرات ۶) اسباب نزول کی روایات کے مطابق، یہ آیت ایک مخصوص واقعہ پیش آنے پر اتری۔ مگر خود آیت میں نہ اس واقعہ کا ذکر ہے اور نہ اس واقعہ سے متعلق افراد کا نام۔ ایسی حالت میں اس آیت کا اصل مفہوم سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو اس واقعہ کی روشنی میں پڑھا جائے جس کے پیش آنے پر یہ آیت اتری۔

اس طرح مذکورہ واقعہ ہمیں اس پس منظر (background) کا علم دیتا ہے جس کی روشنی میں ہم اس آیت میں وارد شدہ حکم کی اصل نوعیت کو سمجھ سکیں۔ اور جب حکم کی ابتدائی نوعیت کو درست طور پر سمجھ لیا جائے تو بعد کے زمانہ میں اس کا انطباق (application) بھی آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کس قسم کی صورت حال میں قرآن کیا حکم دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page