شریعت اور تطبیق شریعت
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۹
قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن جس طرح ہدایت کا سرچشمہ ہے اسی طرح کچھ لوگوں کو اس سے گمراہی ملتی ہے۔ یہ گمراہ ہونے والے کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کا مطالعہ غلط ریفرنس میں کریں۔ غلط ریفرنس یہ ہے کہ آدمی قرآن کی آیتوں کو اسباب نزول کی روشنی میں نہ پڑھ کر ان کو خود اپنی خواہشات اور مزعومات کی روشنی میں پڑھنے لگے۔ آزادانہ سوچ کے تحت ایک آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ اپنے دشمن کو ہلاک کرو اور اس طرح اس کے مسئلہ کو حل کرو۔ لیکن اس معاملہ کو قرآنی آیات کے حوالے سے دیکھا جائے تو برعکس طور پر یہ معلوم ہوگا کہ اسلام کا نشانہ مخالفین کو مارنا نہیں ہے بلکہ ان پر تبلیغ کر کے ان کو اسلام کے دائرہ میں داخل کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی یہ آیت واضح رہنما کی حیثیت رکھتی ہے: اور اس سے بہتر کس کی بات ہو گی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبے والا ہے۔ اور اگر شیطان تمہارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگو بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (حم السجدہ ۳۳-۳۶)
قرآن کی آیتوں سے رہنمائی لینے کے لئے اسباب نزول کی روایتیں بے حد اہمیت رکھتی ہیں۔ قرآن کی آیتوں کو اگر اسباب نزول کے بغیر پڑھا جائے تو ہر آیت مطلق حکم دیتی ہوئی نظر آئے گی۔ لیکن جب ہم قرآن کو اسباب نزول کی روایتوں کی روشنی میں پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر آیت کے نزول کا ایک متعین پس منظر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جب بھی کوئی صورت حال پیدا ہوئی تو اس صورت حال کی نسبت سے خدا کا حکم قرآن میں اتار اگیا۔ ایسی حالت میں یہ درست نہیں کہ قرآن کی آیتوں کو مطلق انداز میں لے لیا جائے اور مطلق انداز میں اس کا انطباق کیا جائے۔ اس کے برعکس ضروری ہے کہ اسباب نزول کی روشنی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues