شریعت اور تطبیق شریعت
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۰
میں آیتوں کا مطالعہ کیا جائے۔ تاکہ اس کے نزول کا پس منظر معلوم ہو اور پھر جب بھی اس کے مشابه صورت حال (similar situation) پیدا ہو تو اس آیت کے حکم کو وہاں منطبق کیا جائے۔ اس اصول کے مطابق ، قرآن کی آیتوں کو اس کے صحیح ریفرنس میں لینا ہدایت کا ذریعہ ہے ۔ اور ان کو غلط ریفرنس میں لینا گمراہی کا ذریعہ ۔
خلاصہ یہ کہ قرآن مختلف اور متنوع قسم کے احکام کا مجموعہ ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ایک جگہ یہ حکم ملے گا کہ مشرکین سے اعراض کرو (الحجر ۹۴)۔ دوسری جگہ قرآن میں یہ حکم ہوگا کہ مشرکین سے قتال کرو۔ (التوبہ ۳۶) یہ دونوں حکم بظاہر ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آج کا ایک قاری ان پر کس طرح عمل کرے ۔
اسباب نزول کی روایات اس کا جواب ہیں۔ قرآن میں جتنے بھی احکام ہیں وہ مخصوص مواقع پر اترے ہیں۔ اسباب نزول کی یہ روایتیں بتاتی ہیں کہ کون سا حکم کس موقع پر اتر اور کون سا حکم کس موقع پر ۔ اس طرح اسباب نزول کی روایتوں کے مطالعہ سے ہم قرآنی احکام کا انطباقِ اول (first application) دریافت کر سکتے ہیں۔ اور جب ایک حکم کا انطباق اول معلوم ہو جائے تو اس کے انطباقِ ثانی (second application) کا جاننا اپنے آپ آسان ہو جاتا ہے۔ اب ہمیں یہ کرنا ہے کہ جب بھی ہم کسی صورت حال میں مبتلا ہوں اور ہمیں اس کے لئے حکم قرآنی کو جاننا ہو تو ہم اسباب نزول کی روایتوں کا مطالعہ کر کے یہ دریافت کریں کہ اس قسم کی صورت حال جب صحابہ کو لاحق ہوئی تو اس وقت ان کے اوپر قرآن کا کون سا حکم اترا۔ اس طرح دونوں حالتوں کے درمیان مشابہت (similarity) وہ چیز ہے جو ہمیں یہ رہنمائی دیتی ہے کہ کس صورت حال میں ہم قرآن کی کس آیت کا اپنے آپ کو مخاطب سمجھیں۔ یعنی انطباق اول کی روشنی میں انطباقِ ثانی کا تعین کریں۔
اسلام بلاشبہ مکمل ضابطہ حیات ہے۔ مگر اس کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی طاقت حاصل کر کے اس کو ایک نظام کی حیثیت سے لوگوں کے اوپر نافذ کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues