شریعت اور تطبیق شریعت
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۱
ایسا مکمل نفاذ عملاً صرف جزئی نفاذ کے ہم معنی ہوگا۔ کیوں کہ طاقت کے زور سے صرف کچھ خارجی احکام نافذ کئے جاسکتے ہیں۔ جب کہ اسلام کا بیشتر حصہ نیت یا داخلی کیفیت سے تعلق رکھتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ داخلی کیفیت آدمی خود اپنے ارادہ سے اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ اوپر سے اس کا نفاذ کیا جانا ممکن نہیں۔
اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص یا کوئی جماعت جب بھی کسی صورت حال سے دوچار ہو تو وہ اس موقع کے لئے قرآن وسنت میں اپنے لئے ایک حکم پالے۔ مثلاً آدمی کو غصہ آئے تو وہاں اس کے لئے اسلام میں یہ رہنمائی ہوگی کہ جس کے خلاف تمہیں غصہ آیا ہے اس کو تم معاف کردو۔ اسی طرح کوئی ایسا موقع پیش آئے جہاں آدمی کو گواہی کے لئے بلایا جائے تو وہاں اسلام کے اس حکم میں اس کے لئے یہ رہنمائی ہوگی کہ تم عدل کے مطابق گواہی دو۔ اسی طرح کسی انسان کے خلاف بدگمانی کی بات علم میں آئے تو وہاں اسلام کا یہ حکم اس کی رہنمائی کر رہا ہوگا کہ تم کسی کے خلاف کوئی رائے اس وقت تک ہر گز قائم نہ کرو جب تک کہ اس کی مکمل تحقیق نہ کر لو۔ اسی طرح اگر کسی کو مال یا اقتدار حاصل ہو تو ایسی حالت میں اس کے لئے اسلام یہ رہنمائی دے رہا ہوگا کہ تم اپنے مال کو کس طرح خرچ کرو اور تم اپنے اقتدار کا استعمال کس طرح کرو، وغیرہ۔
خدا کا دین پورا کا پورا برائے امتحان ہے۔ اسلام کا ہر حکم ایک پرچہ امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کی اس نوعیت کا تقاضا ہے کہ اسلام آدمی کے لئے ایک اختیارانہ پیروی کی حیثیت رکھتا ہو نہ کہ مجبورانہ تعمیل حکم کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues