تکمیل دین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۲
تکمیل دین
قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں ارشاد ہوا ہے : تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور نام پر ذبح کیا گیا ہو اور وہ جو مر گیا ہو گلا گھوٹنے سے یا چوٹ لگنے سے یا اونچے سے گر کر یا سینگ مارنے سے اور وہ جس کو درندے نے کھایا ہو مگر جس کو تم نے ذبح کر لیا اور وہ جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تم تقسیم کرو جوئے کے تیروں سے۔ یہ گناہ کا کام ہے۔ آج کافر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے ۔ پس تم ان سے نہ ڈرو ، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ پس جو بھوک سے مجبور ہو جائے لیکن گناہ پر مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (المائدہ ۳)
روایات کے مطابق یہ آیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی آخر عمر میں حجۃ الوداع کے موقع پر اتری۔ اس میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اب دین اسلام کو اللہ نے کامل کر دیا۔ اس آیت میں چند باتیں قابل غور ہیں۔ مثلاً یہ کہ اکمال دین یا تکمیل دین سے کیا مراد ہے۔ اور یہ کہ " فلا تخشوہم واخشون " کی تفسیر کیا ہے۔ اسی طرح یہ کہ " رضیت لکم الاسلام دینا " کا مطلب کیا ہے۔ ان سوالات کے بارے میں مختصر أعرض کیا جاتا ہے۔
تکمیل استحکام نہ کہ تکمیل احکام
قرآن کی اس آیت میں اکمال دین یا تکمیل دین کا مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا کہ نازل ہونے والے احکام دین کی فہرست آج مکمل ہوگئی۔ یہاں اکمال دین سے مراد استحکام دین ہے نہ کہ فہرست احکام کی تکمیل ۔ یہی مفہوم لغت سے ثابت ہوتا ہے اور یہی مفہوم آیت کے سیاق وسباق سے بھی۔
سب سے پہلے لغت کو لیجئے۔ مشہور عربی لغات لسان العرب میں اس کی جو تشریح کی گئی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues