تکمیل استحکام نہ کہ تکمیل احکام
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۳
كما تقول الآن كمل لنا الملك و كمل لنا ما نريد بان كفينا من كنا نخافه...... فاما أن يكون دين الله عزوجل فى وقت من الاوقات غير كامل فلا (لسان العرب، مطبوعة بيروت، (۵۹۸/۱۱ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تمہارے او پر اپنی نعمت پوری کردی۔ اس کا مطلب یہ ہے، اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے، اب میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا، اس طرح کہ میں تمہارے دشمن سے خوف کے معاملہ میں تمہارے لئے کافی ہو گیا اور میں نے تم کو ان کے اوپر غالب کر دیا۔ جس طرح تم کہتے ہو کہ اب ہمارا اقتدار ہمارے لئے مکمل ہو گیا۔ اور ہمارے لئے وہ چیز کامل ہو گئی۔ جس کو ہم چاہتے تھے، اس طرح کہ ہم ان پر کافی ہو گئے جن سے ہمیں خوف تھا۔ اور یہ کہ اللہ عزوجل کا دین کسی بھی وقت غیر کامل رہا ہو تو ایسا نہیں ہو سکتا۔
تفسیر کی کتابوں میں عام طور پر کسی آیت کے تحت مختلف اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ یہ قول بھی تفسیر کی کتابوں میں عام طور پر موجود ہے۔ یہاں چند حوالے نقل کئے جاتے ہیں۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے : و قیل ”اکملت لكم دينکم" بأن اهلکت لكم عدوكم واظهرت دينكم علی الدین کلہ كما تقول : قد تم لنا مانريد اذا كفيت عدوك (الجامع لاحکام القرآن ٦٢/٦) اور کہا گیا ہے کہ میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا، یعنی میں نے تمہارے لئے تمہارے دشمن کو ہلاک کر دیا اور میں نے تمہارے دین کو سارے دین پر غالب کر دیا۔ جیسا کہ تم کہتے ہو کہ جو ہم چاہتے تھے وہ ہمیں پورا ہو گیا۔ جب کہ تم اپنے دشمن پر کافی ہو جاؤ۔
مفسر النسفی نے سورہ المائدہ کی اس آیت کے تحت لکھا ہے : الیوم ظرف لقولہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues