Al-Risala · February 2001 · page 34

تکمیل استحکام نہ کہ تکمیل احکام

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۴

اليوم كمل لنا الملك أى كفينا من كنا نخافه (تفسير النسفى ١/ ٢٧٢) یعنی اس آیت میں اليوم، اكملت لكم دينكم کا ظرف ہے۔ یہ کہ میں تمہارے دشمن کے خوف کے معاملہ میں تمہارے لئے کافی ہو گیا۔ اور میں نے تم کو ان کے اوپر غالب کر دیا، جس طرح بادشاہ کہتے ہیں کہ آج اقتدار ہمارے لئے مکمل ہو گیا یعنی ہم ان کے لئے کافی ہو گئے جن سے ہمیں خوف تھا۔ القاضی محمد ثناء اللہ عثمانی اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: وقيل اظهرت دينكم علی الادیان كلها و آمنتکم من الاعداء (التفسير المظہری ٣ / ٢٥) یعنی کہا گیا ہے کہ میں نے تمہارے دین کو دوسرے تمام دینوں پر غالب کر دیا اور تم کو دشمنوں سے مامون کر دیا۔ اس تفسیر کے حق میں ایک داخلی شہادت یہ ہے کہ اس آیت میں تکمیل دین کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ اب تمہارے لئے خشیت انسانی کا مسئلہ نہیں، اب تمہارے لئے صرف خشیت الہی کا مسئلہ ہے۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ فہرست احکام کی تکمیل کا کوئی بھی تعلق خوف و خشیت کے مسئلہ سے نہیں۔ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے بالکل غیر متعلق ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تکمیل کی اس آیت کے نزول کے بعد بھی مسلسل اہلِ اسلام کے لئے انسانوں کی طرف سے خوف و خشیت کے مسائل پیدا کئے جاتے رہے۔ اور قانون فطرت کے تحت ہمیشہ ایسا ہی ہو تا رہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب میں مدینہ کی اسلامی حکومت کے خلاف بغاوست کا پھیل جانا، خلیفہ دوم اور خلیفہ سوم اور خلیفہ چہارم کو قتل کیا جانا، کعبہ کا ڈھایا جانا اور عبد اللہ بن زبیر وامام حسین کا قتل کیا جانا، وغیرہ وغیرہ۔

تکمیل کو تکمیل فہرست کے معنی میں لیا جائے تو اس پر ایک سنگین شبہ وارد ہو تا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام سے پہلے جو انبیاء آئے ان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھوڑ کر تمام پیغمبروں پر صرف اساسی دین اترا تھا۔ پھر کیا نعوذ باللہ یہ تمام پیغمبر ناقص دین کے ساتھ دنیا میں آئے اور نا قص دین ہی پر ان کی وفات ہو گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page