Al-Risala · February 2001 · page 35

تکمیل استحکام نہ کہ تکمیل احکام

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۵

سورۃ المائدہ کی آیت کے نزول سے قبل یا تو طبعی طور پر وفات پا گئے یا جنگ میں شہید ہو گئے۔ ان اصحاب رسول نے بڑی بڑی قربانیاں دیں۔ انہوں نے ہر قسم کا ظلم برداشت کرتے ہوئے پیغمبر اسلام کا ساتھ دیا۔ پھر کیا (نعوذ باللہ وہ ناقص دین پر جئے اور ناقص دین پر وفات پا گئے۔ ظاہر ہے کہ ایسا ماننا گمراہی کی حد تک غلط ہوگا۔ اس لئے صحیح بات یہ ہے کہ مذکورہ آیت میں تکمیل سے تکمیل فہرست نہ مانی جائے بلکہ اس کی تشریح قیام واستحکام کی اصطلاحوں میں کی جائے۔ واقعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ۱۰ھ میں جب یہ آیت اتری اس وقت تمام احکام نازل ہو چکے تھے۔ مصدقہ روایات بتاتی ہیں کہ قرآن کے کئی احکام سورہ مائدہ کی اس آیت کے بعد اترے۔ مثال کے طور پر ربا کا حکم اور کلالہ کا حکم، وغیرہ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ۶/ ۶۲) ایسی حالت میں اس آیت میں تکمیل دین سے فہر ست احکام کی تکمیل کو مراد لینا ممکن نہیں۔ قرآن کی آیتوں کے نزول میں جو ترتیب پائی جاتی ہے وہ اس معنی میں نہیں ہے کہ نزول آیات کا یہ معاملہ ابتدائی نقطہ سے شروع ہو کر تکمیل کے نقطہ تک پہنچا۔ بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ احکام کی مطلوبیت ہمیشہ واقعی حالات کی نسبت سے ہوتی ہے۔ یعنی جیسے حالات ویسا حکم۔ اسلام کے مکی دور میں دعوتی حالات تھے اس لئے وہاں زیادہ تر توحید کی آیتیں اتریں جو کہ دین کی اصل اور اساس ہے۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں مسلمانوں کا ایک معاشرہ بن گیا تو وہاں قانونی اور معاشرتی احکام بھی نازل کردئے گئے۔

نزول آیات کی یہ ترتیب ہمیشہ کے لئے مطلوبیت کی ترتیب ہے۔ اہل اسلام کو ہر دور میں یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے حقیقی حالات کا بے لاگ جائزہ لیں، اور پھر اس کی نسبت سے یہ متعین کریں کہ حالات کے مطابق قرآن کے کن احکام پر انہیں عمل کرنا ہے۔

سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں روایت آئی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے زمانہ خلافت میں) کہا کہ قرآن میں سب سے آخری آیت جو اتری وہ ربا کی آیت تھی اور

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page