تکمیل استحکام نہ کہ تکمیل احکام
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۶
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ نے اس کی تفسیر نہیں کی۔ پس تم لوگ ربا کو بھی چھوڑ دو اور جس میں ربا کا شبہ ہو اس کو بھی چھوڑ دو۔ (قال عمر رضی اللہ عنہ ان آخر ما نزل من القرآن آية الرباء و إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض و لم يفسرها فدعوا الربا والريبة) مسند احمد از ۳۶ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دعوی بجائے خود درست نہیں کہ قرآن تمام احکام دین کا مکمل مجموعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن اصلاً اساسات دین کی کتاب ہے۔ اس میں دین کے تمام بنیادی مسائل مکمل طور پر بیان کر دئے گئے ہیں۔ جہاں تک تفسیری احکام کا تعلق ہے، ان کی مکمل فہرست پیش کرنا قرآن کا موضوع ہی نہیں۔ یہ کام علماء اسلام کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ قرآن کی اساسی ہدایات کی روشنی میں قیاس اور استنباط کے ذریعہ انہیں مرتب کریں، اسی بنا پر فقہاء اسلام نے قرآن میں قیاس اور استنباط کے ذریعہ ہزاروں احکام وضع کئے۔ مزید یہ کہ قیاس و استنباط کا یہ سلسلہ ختم نہیں ہو گیا بلکہ وہ قیامت تک جاری رہے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ سورہ المائدہ کی مذکورہ آیت میں تکمیل دین سے مراد استحکام دین ہے۔ آیت میں جس الیوم (آج) کا ذکر ہے اس دن استحکام کی تکمیل ہوئی تھی نہ کہ نزول احکام کی تکمیل ۔ مکہ میں جب اسلام کا آغاز ہوا اسی وقت اللہ نے اپنا کامل دین اتار دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا مل دین کی طرف لوگوں کو بلا رہے تھے۔ یہ کامل دین کیا ہے، یہ توحید ہے۔ توحید ہی تمام انبیاء کے دین کی اصل ہے۔ بقیہ جو چیزیں ہیں وہ اسی اصل کے فروع یا تقاضے ہیں۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا وہ جنت میں داخل ہو گیا (من قال لا إله الا الله دخل الجنة) اسی طرح آپ نے فرمایا کہ کہو اللہ میرا رب ہے اور اس پر جم جاؤ (قل ربی اللہ ثم استقم)
توحید کوئی سادہ بات نہیں، وہ ہر اعتبار سے ایک مکمل عقیدہ ہے اس کا تعلق انسان کی پوری شخصیت سے ہے۔ جب ایک آدمی کو توحید کی حقیقی معرفت حاصل ہوتی ہے تو عین اسی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues