The greatest concern of Islam is Allah.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۷
وقت اس کو مکمل دین مل جاتا ہے۔ توحید کی صورت میں وہ سب کچھ پا لیتا ہے۔ اس لئے قرآن میں سب سے زیادہ توحید پر زور دیا گیا ہے۔ بلکہ قرآن کی تمام آیتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر توحید ہی کا بیان ہیں۔ ایک امریکی اسکالر جس نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اسلام پر ایک کتاب تیار کی ہے، اس نے اس حقیقت کو اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے:
The greatest concern of Islam is Allah.
پیغمبر اسلام ﷺ نے جب مکہ میں اسلامی دعوت کا کام شروع کیا اور لوگوں سے کہا کہ ایھا الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا۔ تو یہ ”ناقص دین“ کی دعوت نہ تھی بلکہ وہ پورے معنوں میں کامل دین کی دعوت تھی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس دور میں مکہ کے جو لوگ ایمان لائے وہ اسلام کی تاریخ ساز شخصیت تھیں مثلاً ابو بکر صدیق، عمر فاروق، عثمان بن عفان اور علی بن ابی طالب وغیرہ۔ ان لوگوں کا ایمان و اسلام مکی دور ہی میں مکمل تھا، ایسا نہیں کہ وہ بعد کو مکمل ہوا جب کہ تمام آیتیں نازل ہو گئیں۔
اصل یہ ہے کہ نظریہ توحید کی حقیقت اسلام میں بیج کی مانند ہے۔ بیچ جب زمین میں جگہ پکڑلے تو اس کے بعد وہ اپنے آپ میں کامل درخت کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اسی طرح جس انسان کو توحید کی حقیقت حاصل ہو جائے وہ اسی کے ساتھ مکمل مومن کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دو چیزیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک ہے شخصیت مومن، اور دوسری چیز ہے خارجی احوال۔ مومن کی شخصیت اسی دن مکمل ہو جاتی ہے جب کہ اسے اللہ کی کامل معرفت حاصل ہو جائے۔ البتہ خارجی احوال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ خارجی احوال میں تکمیل یا استحکام اس وقت متحقق ہوتا ہے جب کہ اہل اسلام کو اپنے ماحول میں عملاً غالب حیثیت حاصل ہو جائے، یہی واقعہ مذکورہ آیت کے نزول کے وقت عرب میں آیا۔ تفسیری فرق کے نتائج مذکورہ تفسیری فرق کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، یہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues