Al-Risala · February 2001 · page 38

The greatest concern of Islam is Allah.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۸

نتیجہ میں آدمی کے فکر و عمل پر نہایت دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

جو لوگ مذکورہ آیت کی تفسیر اس طرح کریں کہ اس میں فہرست احکام کی تکمیل کا اعلان کیا گیا ہے وہ اس کا مطلب یہ سمجھ لیں گے کہ اسلام ایک مکمل قانونی نظام ہے اور کسی مکمل قانونی نظام کو زمین پر قائم کرنے کے لئے سیاسی اقتدار ضروری ہے۔ اس سیاسی ذہن کے تحت وہ اس آیت کا تقاضہ یہ سمجھ لیں گے کہ وقت کے حکمرانوں سے ٹکراؤ کر کے "اقتدار کی کنجیاں" ان سے چھین لیں اور پھر حکومت کے زور پر اس مکمل قانونی نظام کو زمین پر نافذ کریں۔ یہ تفسیر عین فطرت کی بنا پر وہی نتیجہ پیدا کرے گی جو کمیونزم کے نظریہ نے پیدا کیا۔ یعنی اس تفسیر کو ماننے والے ہر جگہ وقت کے حکمرانوں سے بے فائدہ لڑائی چھیڑ دیں گے جس کے نتیجہ میں یہ ہوگا کہ اسلام عملاً نفرت اور تشدد اور تخریب کاری کا مذہب بن جائے گا، جیسا کہ اسی تفسیر کی بنا پر موجودہ زمانہ میں دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے برعکس آیت کی صحیح تفسیر سامنے ہو تو لوگوں کے اندر دعوتی ذہن پیدا ہو گا۔ وہ اللہ کا شکر ادا کریں گے کہ اس نے آج کی دنیا میں ہمارے لئے انتہائی اعلیٰ قسم کے دعوتی مواقع پیدا کردئے ہیں۔ ان جدید مواقع کو استعمال کر کے ہم اسلام کے پیغام کو سارے انسانوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس طرح ہم ساری دنیا کو اسلام کے سایہ رحمت میں لانے کا عظیم کارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔

سورۃ المائدہ (آیت ۳) میں اسلام کے جو امتیازی اوصاف بتائے گئے ہیں، وہ چار چیزوں پر مشتمل ہیں ــــــــ (۱) منکرین حق کا مایوس ہو جانا (۲) اکمال دین (۳) اتمام نعمت (۴) اسلام کا پسندیدہ دین بن جانا۔ اب ان چاروں پہلوؤں کے بارے میں مختصر غور کیجئے۔ ۱۔ منکرین حق کے مایوس ہو جانے کا مطلب کیا ہے۔

ساری دنیا میں الناس علی دین ملوکھم کا اصول رائج تھا۔ کسی ملک کے عوام کا مذہب وہی ہوتا تھا جو ان کے حکمراں کا مذہب ہوتا تھا۔ لوگوں کو ریاستی مذہب (state religion) کے سوا کسی اور مذہب کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ جب کوئی شخص یا گروہ ریاستی مذہب کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page