The greatest concern of Islam is Allah.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۹
سوا کوئی مذہب اختیار کرنا چاہتا تو اس کا یہ فعل ریاست سے بغاوت کے ہم معنی سمجھا جاتا تھا۔ ایسے لوگوں کو وہی سزا دی جاتی تھی جو باغیوں کے لئے مقرر تھی۔ یہی تصور ہے قدیم زمانہ میں مذہبی ایذارسانی (religious persecution) کا سنگین مسئلہ پیدا کیا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ فتنہ کا خاتمہ کردیں۔ اولاً پر امن کوشش کے ذریعہ۔ اور اگر فریق ثانی جارحیت پر اتر آئے تو وہ لڑ کر اس کو مٹا دیں (البقرہ ۲۹۳)۔ اس کے مطابق پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے ایک عظیم جدوجہد شروع کی۔ تاہم اس قسم کا ہزاروں سال سے رائج شدہ نظام کبھی فوری طور پر ختم نہیں ہوتا۔ وہ نسل در نسل کی کوششوں کے بعد ختم ہوتا ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے غیر معمولی قربانیوں کے ذریعہ اس کے تسلسل کو توڑ دیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ فتنہ کے خلاف یہ تحریک ایک عمل کے طور پر تاریخ انسانی میں شامل ہوگئی۔ یہ عمل مختلف صورتوں میں برابر جاری رہا یہاں تک کہ موجودہ زمانہ میں وہ اپنی آخری تکمیل کو پہنچ گیا۔ اب ساری دنیا میں مذہبی آزادی کا زمانہ آچکا ہے۔ آج عالمی طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہر انسان ناقابل تنسیخ طور پر یہ حق رکھتا ہے کہ وہ کسی روک ٹوک کے بغیر اپنے مذہب پر عمل کرے۔ قرآن کے مذکورہ الفاظ گویا یہ بتا رہے ہیں کہ اب تاریخ کی تشکیل جس انداز پر ہونے والی ہے اس میں مذہبی جبر کا امکان ہی سرے سے ختم ہو جائے گا۔ کسی بھی شخص یا ادارہ کو یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ وہ اہل توحید پر ان کے دین کے سلسلہ میں کوئی رکاوٹ ڈالے ۔ یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا کہ منکرین حق اب تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ اب تم انسانی خوف سے مامون ہو کر اللہ کے دین کی پیروی کر سکتے ہو۔
۲۔ اس سلسلہ میں دوسری چیز اکمال دین یا تکمیل دین ہے۔ یہ الفاظ بھی محض وقتی الفاظ نہیں ہیں وہ اس پوری تاریخ کی نوعیت کو بتاتے ہیں جو اسلامی انقلاب کے بعد دنیا میں بننے والی تھی ۔ اور آج جب کہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں یہ تاریخی عمل پورا ہو کر اپنی آخری حد پر پہنچ چکا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues