Al-Risala · February 2001 · page 45

ایک جائزہ

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۴۵

آئے اور قتال فتنه والی آیت کو یاد دلم کر کہا کہ آپ کو فتنه کے استیصال کے لئے جنگ میں شرکت کرنا چاہئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے جواب دیتے ہوئے کہا: قاتلنا حتى لا تكن فتنة، وكان الدين لله، وانتم تريدون أن تقتلوا حتى تكون فتنة ويكون الدين لغير الله (فتح الباری لابن حجر، الجزء الثانی صفحه ۳۲) یعنی ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنه نه رہا۔ اور دین اللہ کے لئے ہو گیا۔ اور تم چاہتے ہو کہ تم جنگ کرو یہاں تک کہ فتنه دوبارہ ہو جائے اور دین غیر اللہ کے لئے ہو جائے۔

اس سے معلوم ہوا کہ عبد اللہ بن زبیر اور ان کے ساتھیوں نے بنو امیه سے " اصلاح سیاست" کے نام پر جو جنگ کی وہ قرآن کے مطابق قتال فتنه کی جنگ نہ تھی۔ اس سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ يكون الدين لله (دین اللہ کے لئے ہو جائے) کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سیاسی بگاڑ باقی نہ رہے، کیوں کہ وہ تو حضرت عبداللہ بن عمر کے زمانے میں وہاں موجود تھا۔ قرآنی آیت (يكون الدين لله) کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کے لئے دینی زندگی گزارنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔

اس سلسلہ میں دوسرا قابل حوالہ قول وہ ہے جو اموی خلیفه حضرت عمر بن عبدالعزیز سے منقول ہے۔ ان کے زمانہ خلافت میں کثرت سے لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اس کو دیکھ کر آپ کے ایک حاکم (گورنر) کو یہ اندیشه ہوا کہ یہ عمل اگر جاری رہا تو خراج کی رقم کم ہو جائے گی اور سرکاری خزانه خالی ہو جائے گا۔ چنانچہ اس حاکم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے کہا کہ قبول اسلام کی اس لہر (wave) پر روک لگانا چاہئے۔ عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا: ويحك إن محمداً صلى الله عليه وسلم بعث هادياً و لم يبعث جابياً۔ (تمہارا برا ہو، محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہادی بنا کر بھیجے گئے وہ خراج وصول کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے)۔ ایک روایت میں ہے کہ خلیفه عمر بن عبدالعزیز کے ایک عامل عدی بن ارطاط نے آپ کے نام ایک مکتوب روانہ کیا کہ لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page