ایک جائزہ
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۴۶
خراج کی رقم کہیں کم نہ ہو جائے۔ عمر بن عبدالعزیز نے اس کے جواب میں انہیں لکھا: فہمت کتابک، واللہ لوددت أن الناس كلهم اسلموا حتی نکون انا وانت حرائین نأکل من کسب ایدینا (سیرۃ عمر بن عبدالعزیز لابن جوزی، ۱۲۴) یعنی میں نے تمہارے خط کو سمجھا۔ خدا کی قسم مجھے یہ پسند ہے کہ تمام لوگ اسلام قبول کر لیں یہاں تک کہ میں اور تم ہل چلانے والے بن جائیں، ہم اپنے ہاتھ کی محنت سے کھائیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جو بات کہی وہ دوسرے لفظوں میں یہ تھی کہ استیصال فتنہ کے بعد اسلام مرحلۂ قتال سے نکل کر اب مرحلۂ دعوت میں آگیا ہے۔ اب ہمیں نہ لوگوں کی گردنیں کاٹنا ہے اور نہ ان سے خراج وصول کرنا ہے۔ بلکہ ہمیں پرامن دعوتی عمل کے ذریعہ تمام قوموں کو اسلام کے سایۂ رحمت میں داخل کرنا ہے۔ بدقسمتی سے بعد کے مسلمانوں میں ایسے افراد پیدا نہیں ہوئے جو اس نقطۂ نظر کی عملی وضاحت کرکے اس کو ایک منظم دینی فکر کی حیثیت دیتے۔ اور اس کو عمومی طور پر ملت کے شعور کا حصہ بنا دیتےـ اس بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کی صدیوں میں بھی مسلمانوں کی صفوں سے ایسے سیاسی حوصلہ مند اٹھتے رہے جنہوں نے جنگ و قتال کے تسلسل کو باقی رکھا امت کا ایک طبقہ اگرچہ بدستور دعوت و اصلاح کے پر امن کام میں مشغول رہا مگر اسی کے ساتھ کچھ لوگوں نے شمشیر زنی اور ملک گیری کا کام بھی جاری رکھا۔
تاہم قدیم زمانہ کے شمشیر زنوں کا یہ عمل اسلام کی دعوتی توسیع میں کوئی بڑی رکاوٹ نہ ڈال سکا۔ کیونکہ قدیم حالات میں ان کا عمل اسلام کی عمومی بدنامی کا سبب نہیں بن سکتا تھا۔ مگر۔ موجودہ زمانہ میں کچھ ایسے مسلم مفکرین پیدا ہوئے جنہوں نے بطور خود اسلام کی سیاسی اور انقلابی تفسیر کی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان چونکہ نئے حالات کے نتیجہ میں سیاسی محرومی کے احساس میں مبتلا تھے اس لئے ان کے درمیان اس ’’انقلابی تفسیر‘‘ کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ یہاں تک کہ امت کا بڑا حصہ یا تو ذہنی طور پر متشددانہ طرزِ فکر میں مبتلا ہو گیا یا عملی طور پر متشددانہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues