ایک جائزہ
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۴۷
کارروائیوں میں۔
دور جدید کے ان مجاہدین نے اسلام کو جو نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں کبھی کوئی نہیں پہنچا سکا تھا، حتیٰ کہ اسلام کے کھلے دشمن بھی اس قسم کا نقصان پہنچانے میں ناکام ثابت ہوئے تھے۔ اس کا سبب موجودہ زمانہ کا تیز رفتار میڈیا ہے۔ پچھلے زمانہ میں تشدد کے کسی واقعہ کو صرف آس پاس کے چند لوگ جان سکتے تھے۔ مگر اب یہ حالت ہے کہ زمین کے کسی بھی گوشے میں تشدد کا واقعہ ہو تو وہ اسی دن اپنی پوری تفصیل کے ساتھ پوری دنیا کے علم میں آجاتا ہے۔
قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ بتوں کو برا نہ کہو، ورنہ ان کے پوجنے والے اللہ کو برا کہنے لگیں گے (الانعام (۱۰۸) اس آیت کی تفسیر کے تحت مفسر القرطبی نے لکھا ہے_ علماء نے کہا ہے کہ اس کا حکم امت پر ہر حال میں باقی ہے، پس جب کافر طاقتور حالت میں ہوں اور یہ اندیشہ ہو کہ جواب میں اسلام کو یا پیغمبر کو یا اللہ کو برا بھلا کہا جائے گا تو کسی مسلم کے لئے یہ جائز نہ ہوگا کہ وہ ان کی صلیبوں کو اور ان کے دین کو اور ان کے عبادت خانوں کو برا بھلا کہیں اور نہ کوئی ایسا فعل کیا جائے گا جس سے اس قسم کا منفی نتیجہ نکلے کیوں کہ ایسا فعل معصیت پر ابھارنے کے ہم معنی ہے : اور اس میں یہ دلیل ہے کہ صاحب حق اپنے حق سے رکا رہے گا جب کہ اس کا اقدامات دین میں ضرر پہنچانے کا سبب بنے (الجامع الاحکام القرآن للقرطبی، الجزء السابع صفحہ ۶۱) یہ اسلام کی ایک نہایت اہم ہدایت ہے۔ وہ مسلمانوں کے اوپر فرض کے درجہ میں ضروری قرار دیتی ہے کہ وہ کسی عملی اقدام سے پہلے اس کے نتیجہ کے بارے میں اچھی طرح غور کریں، خواہ یہ اقدام بظاہر بالکل درست کیوں نہ ہو جب کہ اس کے نتیجہ میں خدا کے دین کو کوئی نقصان پہنچنے والا ہو۔
بیسویں صدی عیسوی میں تقریباً ساری دنیا میں مسلمانوں کی طرف سے کئی ایسے ناعاقبت اندیش اقدام کئے گئے جو واضح طور پر اس حکم اسلام کی خلاف ورزی تھے مثلاً ملک و مال کے لئے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues