ایک جائزہ
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۴۸
طاقتور قوموں کے خلاف مسلح جنگ چھیڑنا، مسلم حکمرانوں کو ظالم قرار دے کر ان کے خلاف قشد دانہ جہاد کرنا۔ توہینِ اسلام کے نام پر اس کے مرتکبین کے خلاف قتل کے فتوے صادر کرنا، وغیرہ۔
اس قسم کی مختلف کارروائیاں جدید انسان کے لئے تشدد (violence) کی حیثیت رکھتی تھیں، اور تشدد آج کے انسان کے نزدیک عام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔ چونکہ یہ واقعات جدید میڈیا کے زمانہ میں ہو رہے تھے، وہ فوراً پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ تمام دنیا میں پھیل گئے۔ نتیجہ اپنی بدترین صورت میں وہی نکلا جس کا ذکر قرآن کی مذکورہ آیت میں کیا گیا ہے، یعنی اسلام کی بدنامی، چنانچہ اس کے بعد یہ ہوا کہ دنیا بھر کے لوگ اسلام کو برا بھلا کہنے لگے۔ تمام لوگوں کی نظر میں اسلام ایک ایسا مذہب بن گیا جو نفرت اور تشدد کی تعلیم دیتا تھا، اور اس بنا پر وہ ان کے لئے قابل قبول نہ تھا۔
کسی عمل کو شروع کرنے کے سلسلہ میں صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ وہ بظاہر درست ہے یا وہ اپنے ایک جائز حق کے لئے اٹھناہے۔ اسی کے ساتھ لازمی طور پر یہ دیکھنا چاہیے کہ حالات موجودہ (given situation) میں اس کی طرف اقدام کرنا کس قسم کا نتیجہ برآمد کرے گا، اگر یہ یقین ہو کہ وہ مطلوب نتیجہ تک پہنچائے گا تو اس کے لئے اقدام کرنا چاہیے۔ بے نتیجہ اقدام کرنے سے بہتر یہ ہے کہ سرے سے کوئی اقدام ہی نہ کیا جائے۔
اسلام انسانی فطرت کا دین ہے۔ وہ ہر آدمی کے دل کی آواز ہے۔ اسلام اپنی امتیازی صفات کی بنا پر اس قابل ہے کہ ہر آدمی اس کو قبول کرے، وہ ہر آدمی کے لئے اس کی داخلی طلب کا جواب بن جائے، پچھلی صدیوں میں اسلام کو جو عمومی مقبولیت حاصل ہوئی وہ اسی حقیقت کا ایک تاریخی ثبوت ہے۔ آج بھی یہ تاریخ دوبارہ ظہور میں آسکتی ہے، بشرطیکہ اسلام کے اوپر سے بدنامی کا مصنوعی پردہ ہٹا دیا جائے۔
اسلام اکیسویں صدی کا مذہب ہے۔ اسلام کو بلاشبہ اپنی فکری فتوحات کے ساتھ اکیسویں
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues