Al-Risala · March 2002 · page 56

To meet my girl friend.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۵۶

میں مبتلا ہونے کے باوجود مغربی کلچر کا انسان سماجی اخلاق کے معاملہ میں موجودہ مذہبی لوگوں سے بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان لوگوں نے عورت اور شراب کو ذاتی آزادی کی چیز قرار دے دیا ہے۔ لیکن جہاں تک سماجی اور کاروباری اخلاقیات کا تعلق ہے، اس کو وہ سختی کے ساتھ ڈسپلن کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ اس تقسیم کی بنا پر انہوں نے شخصی آزادی کے باوجود اجتماعی ڈسپلن کو برقرار رکھا ہے۔

۲۴ جولائی کی رات کو ۱۰ بجے گھر سے دہلی ایئر پورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ میری زبان سے یہ مسنون دعا نکلی: اللهم انت الصاحب في السفر وانت الخليفة في الأهل (خدایا تو سفر میں میرا ساتھی ہے اور تو میرے بعد میرے گھر والوں کا نگہبان ہے)۔ اس قسم کی دعائیں جو حدیثوں میں موجود ہیں وہ مومن کے لئے بے حد قیمتی تحفہ ہیں۔ ان دعاؤں کی حیثیت یہ نہیں ہے کہ وہ کچھ پراسرار الفاظ کا مجموعہ ہیں جن میں طلسماتی خواص چھپے ہوئے ہیں۔ بلکہ وہ مومنانہ جذبات کا لفظی اظہار ہیں۔ یہ دعائیں بتاتی ہیں کہ زندگی کے مختلف مواقع پر اللہ کے کسی بندے کے دل میں اپنے رب کے لئے کس قسم کے احساسات جاگنے چاہئیں ۔ یہ ایک سچے بندے کی طرف سے خوف اور محبت کا تحفہ ہے جس کو وہ نفسیاتی سطح پر اپنے رب کے لئے بھیجتا ہے۔

دہلی ائر پورٹ پر ڈاکٹر کپلا (ہندو خاتون) اور رین پوچے جی (بدھسٹ) پیشوا ملے۔ یہ دونوں بھی سوئزرلینڈ کی اس کانفرنس میں شرکت کے لئے جا رہے تھے۔ ہم لوگ دیرتک ائر پورٹ کے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے مختلف موضوعات پر بات کرتے رہے۔

رین پوچے جی ایک مشہور بدھسٹ ہیں۔ حال میں وہ تبت کی پراوزنل گورنمنٹ یا مہاجر گورنمنٹ (Government in exile) کے لئے مہاجر تبتیوں کے اتفاق رائے سے پرائم منسٹر مقرر ہوئے ہیں۔ ان سے کئی بار میری ملاقات ہو چکی ہے۔ بدھسٹ خدا کو نہیں مانتے۔ اس کے باوجود میں نے دیکھا کہ رین پوچے جی میں تواضع (modesty) ہے۔

میں نے سوچا کہ رین پوچے جی کی اس تواضع کا راز کیا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ تواضع کا راز

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page