To meet my girl friend.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۵۷
یہ ہے کہ آدمی اپنے سے بر تر کسی حقیقت کو دریافت کر سکے۔ مومن اللہ کو ایک بر تر ہستی کے طور پر دریافت کرتا ہے۔ یہ دریافت اس کو متواضع بنا دیتی ہے۔ سائنس داں علم کو ایک بر تر حقیقت کے طور پر دریافت کرتا ہے۔ اسی طرح سے بدھسٹ لوگ انسانیت کو بر تر حقیقت کے طور پر مانتے ہیں۔ غالباً یہی چیز ان کے لئے تواضع کی نفسیات پیدا کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔
۲۴ جولائی کو ائر پورٹ پر دو رکعت نماز پڑھی۔ سجدہ کی حالت میں ایک عجیب تجربہ ہوا۔ مجھے محسوس ہوا کہ سجدہ کسی انسان کی طرف سے اپنے رب کے لئے سب مشن (submission) یا سرنڈر (surrender) کی آخری صورت ہے۔ میں نے کہا کہ خدایا، سر فگندگی کی اس کے آگے بھی کوئی صورت ہوتی تو میں تیرے لئے اس کو کرتا تا کہ میں تیری رحمتوں کو حاصل کر سکوں۔ نماز کے بعد سوچتے ہوئے ایک عجیب حقیقت سمجھ میں آئی۔ میری سمجھ میں آیا کہ سجدہ اظہار عبودیت کا آخری ماڈل (final model) ہے۔ اس دنیا میں اللہ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان میں سے ہر ایک اپنے آخری ماڈل پر ہے۔ چیونٹی، شیر، دریا، پہاڑ، درخت، انسان، غرض ہر چیز، حتی کہ گھاس بھی اپنے آخری ماڈل پر ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا آرٹسٹ بھی کسی چیز کا کوئی اور ماڈل تیار نہ کر سکا۔ اس دنیا کی ہر چیز اتنی مکمل ہے کہ اس کے آگے تکمیل کا کوئی اور درجہ پانا انسانی عقل کے لئے ممکن نہیں۔
یہی معاملہ اسلامی عبادت کا ہے جو اللہ نے انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اہم جزء سجدہ ہے جس کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ واسجد واقترب ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سجدہ انسانی عبودیت کے اظہار کا آخری ماڈل ہے، اس کے آگے کوئی اور ماڈل قابلِ تصور نہیں۔ اس لئے وہ موجودہ دنیا میں قربتِ الہی کا بھی آخری لمحہ ہے۔
دہلی سے نیویارک کا سفر سوئس ائر کی فلائٹ کے ذریعہ ہوا۔ یہ ایک ڈائرکٹ فلائٹ تھی جو دہلی سے نیویارک تک کا سفر ساڑھے سات گھنٹہ میں طے کرتی ہے۔
میرے پاس فرسٹ کلاس کا ٹکٹ تھا۔ جب میں اس کے فرسٹ کلاس میں پہنچا تو تھوڑی دیر
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues