Al-Risala · March 2002 · page 58

From Zero to Hero.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۵۸

کے لئے عجیب احساس ہوا۔ یہ ایک خوبصورت کیبن تھی۔ جدید طرز کی انتہائی آرام دہ سیٹ، ہر قسم کے کھانے پینے کا عمدہ سامان، بہترین سروس کے لئے ہر وقت ائرسٹپس موجود، وغیرہ وغیرہ۔ مگر فرسٹ کلاس کا یہ ظاہری سحر(fascination) صرف تھوڑی دیر کے لئے تھا۔ جلد ہی وہ بالکل ختم ہو گیا۔ میری طبیعت گھبرا اٹھی اور میں چاہنے لگا کہ جلد سفر ختم ہو اور میں اس خوبصورت قید خانہ سے نکل کر باہر کی کھلی دنیا میں پہنچ جاؤں۔ اپنے اس احساس پر غور کرتے ہوئے مجھے وہ آیت یاد آئی جو اہل جنت کی زبان سے قرآن میں آئی ہے۔ نتبوأ من الجنة حيث نشاء (الزمر ۷۳)۔ میں نے سوچا کہ خواہ کوئی جگہ بظاہر کتنی ہی زیادہ پر راحت اور پر عیش کیوں نہ ہو، اگر وہ محدود ہو تو انسان بہت جلد اس سے اکتا جائے گا۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے لامحدود وسعتوں میں جینا چاہتا ہے۔ انسان انتہائی حد تک ایک آزادی پسند مخلوق ہے۔ وہ اپنے جینے کے لئے ایک ایسی جگہ چاہتا ہے جہاں نہ صرف ہر قسم کا عیش و آرام موجود ہو بلکہ اسی کے ساتھ وہ ایسی جگہ ہو جو محدودیتوں سے پاک ہو۔ ایسی وسیع جگہ صرف جنت ہو سکتی ہے جس کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے عرضها السماوات والارض (آل عمران ۱۳۳)

۲۴ جولائی ۲۰۰۱ کو دہی سے نیورک کی طرف پرواز کرتے ہوئے کچھ چیزیں پڑھیں۔ سوئس ائر کے فلائٹ میگزین میں ایک مضمون اسپورٹس (sports) پر تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ کھیل کی دنیا میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی اچانک ایک بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے اور وہ زیرو سے ہیرو بن جاتا ہے۔ اس مضمون کا عنوان تھا:

From Zero to Hero.

اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہی معاملہ بہت سے لوگوں کے ساتھ برعکس صورت میں ہونے والا ہے۔ بہت سے لوگ دنیوی کمالات دکھا کر آج کی مادی دنیا میں ہیرو بنے ہوئے ہیں۔ میڈیا میں ان کا چرچا ہوتا ہے۔ ان کے پاس ہر قسم کے مادی ساز و سامان ہیں۔ لوگ ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ وہ اپنی یہ شان وشوکت کھو دیں گے۔ وہ اچانک ہیرو سے زیرو

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page