From Zero to Hero.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۵۹
بن جائیں گے۔ مگر انسان آج کے دن میں اتنا گم ہے کہ اسے کل کے دن کی کوئی خبر نہیں۔ راستہ میں کچھ اخبارات دیکھے۔ ہیرلڈ انٹرنیشنل ٹ্রিبیون کے زیورک ایڈیشن (۲۲ جولائی) میں انڈونیشیا کے معزول صدر عبدالرحمن وحید پر ایک تفصیلی رپورٹ چھپی تھی۔ عبدالرحمن وحید کے غیر جمہوری اور آمرانہ رویہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اخبار نے یہ الفاظ لکھے تھےــــــ یہ ستم ظریفی کی بات ہے کہ ایک شخص جو جمہوریت کا چیمپئن تھا اس نے اپنی پوزیشن کو بچانے کے لئے غیر جمہوری طریقے اختیار کئے:
It is ironic that a person who was a champion of democracy tried to protect his position by undemocratic means. ہمارا جہاز ۲۵ جولائی ۲۰۰۱ کی صبح کو ٹھیک وقت پر زیورک پہنچ گیا۔ جہاز جب ایئرپورٹ کے قریب پہنچ کر نیچے اتراتو چاروں طرف سر سبز مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ یہ ایک خوبصورت دنیا تھی جو گویا فطرت کے سبزہ زار ماحول میں بنائی گئی تھی۔ اس کو دیکھ کر میری زبان سے نکلا: It is like seeing paradise from a distance. مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے ایک نہایت حسین اور معیاری دنیا بنائی جہاں انسان ابدی طور پر پرمسرت زندگی گزار سکے۔ یہ جنت ہے۔ پھر اس نے ایک اور دنیا موجودہ زمین کی صورت میں بنائی۔ ہماری زمین ساری کائنات میں ایک انتہائی انوکھا استثناء ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، اس دنیا میں جنت کے مشابہہ تمام چیزیں رکھ دی گئی ہیں (البقرہ ۲۵)۔ گویا یہ دنیا کامل جنت کا ایک ناقص تعارف ہے۔ یہ دنیا انسان کو اس لئے دی گئی ہے تاکہ وہ اس کے اندر جنت کی ابتدائی جھلک دیکھے اور پھر اس کا شکر ادا کر کے ابدی جنت کا مستحق بنے (لئن شکرتم لازیدنکم) ابراہیم ۷۔ ۲۵ جولائی کی صبح کو ہم لوگ زیورک ایئر پورٹ پر تھے۔ یہ ایئر پورٹ نہایت منظم اور نہایت خوبصورت ہے۔ ٹرانسپورٹ کا عمدہ انتظام ہے۔ ایئر پورٹ سے نکلتے ہی بس مل جاتی ہے۔ اسی کے ساتھ ایئر پورٹ کے ٹھیک نیچے ریلوے اسٹیشن ہے۔ یہاں سے ہر مقام کے لئے آرام دہ ٹرین حاصل کی جاسکتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues