Al-Risala · March 2002 · page 60

From Zero to Hero.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۶۰

دہلی اور نیو یارک کے ٹائم میں ساڑھے تین گھنٹہ کا فرق ہے۔ صبح ساڑھے سات بجے ہم لوگ نیو یارک سے کنڈرسٹگ (Kandersteg) کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ ایک پہاڑی تفریح گاہ (hill resort) ہے۔ یہیں پر قیام کا انتظام تھا۔ ڈھائی گھنٹے کا یہ سفر ایسا تھا گویا کہ ہم ایک آفاقی پارک کے درمیان سے گزر رہے ہوں۔ راستہ کے دونوں طرف پر کشش ہریالی اور سرسبز مناظر کے درمیان جگہ جگہ خوبصورت مکانات اور برفیلی پہاڑیاں، ایسا محسوس ہوا جیسے کہ ہم کسی خواب کی دنیا میں ہیں۔ سڑک اتنی عمدہ تھی کہ ہماری گاڑی سڑک پر پھسلتی ہوئی چل رہی تھی۔ ماحول میں نہ دھواں تھا اور نہ شور۔

سوئز رلینڈ یورپ کے تقریبا درمیان میں ہے اس کے چاروں طرف فرانس، جرمنی، اٹلی اور آسٹریہ واقع ہیں۔ وہ افغانستان کی طرح ایک محصور ملک (landlocked country) ہے۔ مگر سوئزر لینڈ دور جدید کا ایک اعلیٰ ترقی یافتہ ملک ہے جہاں ہر طرف امن اور خوشحالی کا دور دورہ ہے۔ جب کہ افغانستان برعکس طور پر ایک ایسا تباہ ملک بنا ہوا ہے جہاں خود افغانیوں کے لئے اتنی کم کشش ہے کہ وہ پہلی فرصت میں بھاگ کر دوسرے ملکوں میں چلے جاتے ہیں۔

اس فرق کا راز ایک لفظ میں استحکام (stability) ہے۔ سوئز رلینڈ کے لیڈروں نے ۱۸۱۵ میں پڑوسی ملکوں سے اپنی سرحد کو متعین کرایا۔ اس کے بعد سے آج تک وہاں کامل طور پر استحکام کا ماحول قائم ہے۔ جب کہ اس مدت میں افغانستان میں بار بار لڑائی جھگڑوں کے نتیجہ میں استحکام ٹوٹا رہا اس بنا پر وہاں امکانات کے باوجود ترقی نہ ہوسکی۔

سماجی اور سیاسی استحکام کوئی اتفاقی واقعہ نہیں۔ وہ شعوری ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ حاصل ہونے والا ایک واقعہ ہے۔ مثال کے طور پر سوئز رلینڈ میں مختلف گروہ بستے ہیں جن میں کلچر اور زبان اور مذہب کی یکسانیت نہیں، اس کے باوجود وہاں مکمل اتحاد ہے۔ اس اتحاد کا راز اختلاف کو گوارا کرنا ہے، نہ کہ اختلاف کو مٹانا۔ اس کے برعکس افغانستان میں تقریباً سارے لوگ مسلمان ہیں اور سب کی زبان بھی ایک ہے۔ اس کے باوجود ان کے غیر مصالحت پسندانہ مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ صدیوں سے آپس میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page