From Zero to Hero.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۶۱
لڑتے رہے ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کی یہ لڑائی ابھی اور کتنے دن جاری رہے گی (17 (867/EB افغانستان میں جو کچھ ہوا يا ہو رہا ہے وہ یقینی طور پر قبائلی لڑائی ہے، نہ کہ اسلامی جہاد۔ اس کانفرنس کا انعقاد کنڈ راستگ (Kandersteg) میں کیا گیا تھا۔ یہ سوئزرلینڈ کا مشہور ریزورٹ (resort) ہے۔ یہاں مختصر آبادی ہے۔ اس مختصر بستی میں ایک ہزار سے کچھ زیادہ لوگ آباد ہیں جن کی زبان عام طور پر جرمن ہے۔ یہ سوئزرلینڈ کا ایک گاؤں (village) ہے۔ مگر وہ دور جدید کی تمام بہترین سہولتوں سے آراستہ ہے۔ یہاں ایک خوبصورت ریلوے اسٹیشن بھی ہے۔ یہاں سے بیٹھ کر آپ روم اور دوسرے مقامات تک جاسکتے ہیں۔ سوئزرلینڈ کی ٹرین میں سفر کرنا بذات خود ایک تفریح کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب یہ ٹرین فطرت کے خوبصورت مناظر کے درمیان سے گزرتی ہے تو اس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان جنتی سفر کا خواب دیکھ رہا ہو۔
کشمیر کو برصغیر ہند کا سوئزرلینڈ کہا جاتا ہے۔ یہ بات امکان کے اعتبار سے بالکل درست ہے۔ مگر بدقسمتی سے کشمیر میں اس امکان کو واقعہ نہ بنایا جاسکا۔ کشمیر کے نادان لیڈروں نے اگر اپنی بے فائدہ سیاست اور جنگ جوئی سے کشمیر کے ماحول کو بگاڑانہ ہوتا تو بلاشبہہ کشمیر عملی اعتبار سے بھی آج بر صغیر ہند کا سوئزرلینڈ ہوتا۔ کشمیر کے لیڈروں نے اپنی بے دانشی کی بنا پر جس ترقی کا خواب سیاست میں دیکھا تھا، اس خواب کی تعبیر زیادہ بہتر طور پر سیاحت اور تعلیم میں موجود تھی۔ مگر یہ لیڈر اپنے روایتی ذہن کی بنا پر اس نئے امکان کو سمجھ نہ سکے۔ وہ بے فائدہ طور پر سیاست کی چٹان سے ٹکراتے رہے جب کہ عین اسی وقت سیاحت اور تعلیم جیسے تعمیری میدانوں میں ان کے لئے ہر قسم کی اعلیٰ ترقی کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کو خود اس کے نادان لیڈروں نے تباہ کیا ہے نہ کہ کسی مفروضہ ظالم نے۔
اس کانفرنس میں مختلف ملکوں کے لوگ تقریباً ۲۵ کی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ میرا ابتدائی اندازہ یہ تھا کہ سوئزرلینڈ کی اس انٹرنیشنل کانفرنس میں شاید میرا کوئی جاننے والا نہ ہوگا۔ دہلی میں ہمارے دفتر کی طرف سے کتابوں کا ایک بنڈل دیا جا رہا تھا۔ میں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues