Al-Risala · January 2002 · page 12

National Symbols that we are proud of.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۲

جاپان جانا پڑتا ہے۔ اپنے بزنس کے تقاضہ کے تحت انہوں نے جاپانی زبان سیکھ لی۔ پاکستان بنگالیوں کو اردو داں نہ بنا سکا مگر جاپان نے ان کو جاپانی داں بنا دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی میں عملی حقائق کتنی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

ڈھاکہ میں ہماری کتابوں کے بعض ڈسٹری بیوٹر ہیں۔ محمد صادق صاحب کے گھر پر ان کا ذکر ہوا تو ان کے ۱۳ سالہ صاحبزادے نے فوراً کہا کہ مجھ کو ان کا ایڈرس دیجئے میں وہاں سے اسلامی کتابیں لاؤں گا۔ وہ انگلش اسکول میں پڑھتے ہیں۔ اس طرح کے مختلف واقعات سے اندازہ ہوا کہ بنگلہ دیش کے مسلمان اسلام کے ساتھ گہرا جذباتی تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم مورخ کو اس مشکل سوال کا جواب معلوم کرنا ہے کہ سابق مشرقی پاکستان میں اسلامی قیادت کیوں ناکام ہوگئی۔ اور سیکولر قیادت کیوں اتنا کامیاب ہوئی کہ یہ ملک اسلامی پاکستان سے کٹ کر سیکولر بنگلہ دیش بن گیا۔ یکم جون ۲۰۰۱ کی صبح کو میں ڈھاکہ کے شیریٹن کے ڈائننگ ہال میں ناشتہ کر رہا تھا۔ میرے قریب کی میز پر ایک اور صاحب بیٹھے ہوئے تھے جو غالباً انڈونیشیا سے آئے تھے۔ اتنے میں ایک اور صاحب اپنا خوبصورت بیگ لئے ہوئے داخل ہوئے۔ انہوں نے مذکورہ انڈونیشی سے کہا کہ تکلیف کے لئے معافی (sorry to disturb you) ۔ اور پھر وہ ان کے قریب کی کرسی پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد ناشتہ کی میز پر دونوں کے درمیان انگریزی میں گفتگو ہونے لگی۔ آنے والے شخص کے لفظ لفظ سے حوصلہ اور اعتماد کا اظہار ہو رہا تھا۔ ناشتہ مکمل کر کے دونوں پر اعتماد انداز میں اٹھے اور اپنے خوب صورت بیگ ہاتھ میں لئے ہوئے باہر چلے گئے۔

میں نے سوچا کہ اس زمانہ میں جو شخص یہ صلاحیت رکھتا ہو کہ وہ انگریزی زبان میں بخوبی اظہار خیال کر سکے ، اس کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ جہاں بھی جائے وہ فوری طور پر دنیا کی کلچرل مین اسٹریم میں شامل ہو سکے۔ قدیم فارسی شاعر نے اپنے زمانہ میں جو بات منعم کے لئے کہی تھی وہ آج زیادہ بہتر طور پر انگریزی داں کے لئے صحیح ثابت ہوتی ہے :

منعم به کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا که رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page