Al-Risala · January 2002 · page 13

Try, try, try again.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۳

میری تقریر یکم جون کو دو پہر بعد کے اجلاس میں ہوئی۔ میری تقریر کے بعد ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اسلام کے مخالفین کا جواب تشدد کے بجائے پر امن ذرائع سے دیا جائے۔ ہم نے اس کی کوشش کی مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ایسی حالت میں ہم کو آپ اس مسئلہ کا کیا حل بتاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا حل بہت آسان ہے اور وہ مشہور انگریزی مقولہ کے مطابق یہ ہے کہ اپنی کوشش جاری رکھیے:

Try, try, try again.

میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ فنڈ منٹلزم دراصل انتہا پسندی (extremism) کا دوسرا نام ہے جو بڑھ کر فنائٹسرم (fanaticism) کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ قرآن وحدیث میں اس کے لئے غلو اور تشدد کے الفاظ آئے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: لا تغلوا فی دینکم (النساء۱۷۱) یعنی تم لوگ اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ: ایاکم والغلو فی الذین فانما هلك من كان قبلكم بالغلو فی الدین (احمد، ابن ماجه، النسائی) یعنی تم لوگ دین میں غلو کرنے سے بہت زیادہ بچو، کیوں کہ پچھلی امتیں اس لئے ہلاک ہو گئیں کہ انہوں نے دین میں غلو کیا۔ اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تشددوا علی انفسكم فيشدد عليكم (ابوداؤد)

میں نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اس کی بنیاد اعتدال پسندی، رواداری، خیر خواہی اور انسانی رعایت پر قائم ہے۔ فنڈ منٹلزم اسلام کے پورے ڈھانچہ کو تباہ کر دینے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فنڈ منٹلسٹ نقطہ نظر کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔ میری یہ تقریر اگلے صفحات میں نقل کی جا رہی ہے۔

یکم جون کی شام کو ۸ بجے بنگلہ دیش کی خاتون پرائم منسٹر شیخ حسینہ کی سرکاری رہائش گاہ پر ان سے ملاقات ہوئی۔ کانفرنس کے تمام شرکاء ایک بڑے ہال میں لے جائے گئے اور سب سے اجتماعی ملاقات ہوئی۔ یہ بہت بڑی رہائش گاہ تھی۔ اس کے اندر دور تک کار کے ذریعہ چلتا رہا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page