Al-Risala · March 2002 · page 62

Alternative Visions by Fred Dalmayr

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۶۲

غیر ضروری سمجھ کر اس کو اپنے ساتھ لے جانے پر راضی نہ تھا۔ مگر دفتر کے اصرار پر آخر وقت میں اس کو ساتھ رکھ لیا۔

۲۵ جولائی کو شام کے کھانے پر کانفرنس کے شرکاء سے ملاقات ہوئی۔ میرے اندازے کے خلاف معلوم ہوا کہ ان میں سے بیشتر لوگ مجھ کو جانتے تھے۔ ان میں شاید ایسے لوگ کم ہوں جنہوں نے میری کتابیں پڑھی ہوں مگر یہ لوگ میرے نام سے ضرور واقف تھے۔ میں نے جاننا چاہا کہ ان لوگوں کو میرے بارے میں یہ واقفیت کیسے ہوئی۔ معلوم ہوا کہ اس میں بڑا حصہ ہمارے مخالفین کا ہے۔ مخالفین نے مجھ کو ساری دنیا میں بدنام کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح میرا نام لوگوں کے علم میں آ گیا۔ گویا لوگوں کی طرف سے بدنامی کی مہم شہرت عام میں تبدیل ہو گئی۔ یہ وہی معاملہ ہے جس کو قرآن میں رفع ذکر (الانشراح) کہا گیا ہے۔

اس کانفرنس میں جو لوگ آئے ان میں سے ایک ملیشیا کے ڈاکٹر چندر مظفر تھے۔ وہ انٹرنیشنل موومنٹ فار اے جسٹ ورلڈ کے پریذیڈنٹ ہیں۔ انہوں نے گفتگو کے دوران بتایا کہ امریکہ سے ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے میرا اور میرے مشن کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ کتاب کا نام اور اس کے مصنف کا نام یہ ہے:

Alternative Visions by Fred Dalmayr

ڈاکٹر مظفر کے پاس یہ کتاب موجود تھی۔ انہوں نے متعلقہ صفحات کی فوٹو کاپی کرا کر ہمیں دیا۔ ۲۵ جولائی کو شام کے کھانے پر جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایک پروفیسر گریول لئڈاپ تھے۔ وہ ٹمناس اکیڈمی ریویو کے ایڈیٹر ہیں۔ وہ مانچسٹر سے آئے تھے۔ انہوں نے میرے حالات اور میرے موضوع کے بارے میں تفصیل سے جاننا چاہا ۔ میں نے جو باتیں بتائیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ میری تعلیم اگر چہ اسلامی مدرسہ میں ہوئی مگر تعلیم سے فراغت کے بعد جب میں وسیع تر دنیا میں آیا تو میں مذہب سے برگشتہ ہو گیا۔ اس کے بعد حالات نے میرے اندر وہ چیز پیدا کی جس کو روح تجسس (spirit of enquiry) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ میں نے از سر نو ہر موضوع کا مطالعہ شروع

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page