Let truth prevail
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۶۴
کے دوسری طرف دنیائے صنعت۔ وہ دنیائے صنعت، جس کا نام رائل پارک ہوٹل ہے۔ جس میں جدید صنعتی دور کی تمام آسائشیں اعلیٰ معیار پر مہیا کی گئی ہیں۔
مزید سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ فطرت کی دنیا ہزاروں سال پہلے جیسی تھی ویسی وہ آج بھی ہے۔ پہاڑوں کی بلندی، درختوں اور چشموں کا حسن، چڑیوں کے نغمے، سورج کی سہانی کرنیں، غرض فطرت کی تمام چیزیں ایک ابدی شان کے ساتھ ہمیشہ سے یکساں طور پر موجود ہیں۔ مگر دنیائے صنعت ایک امکان کے روپ میں یہاں چھپی ہوئی تھی۔ خدا کی دی ہوئی عقل کے ذریعہ انسان نے اس کو دریافت کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر یہ دنیائے صنعت اپنی کامل صورت میں ظاہر ہوگئی۔ مگر یہاں ایک فرق ہے۔ دنیائے فطرت میں ہر قسم کی کامل سرگرمیاں موجود تھیں مگر وہ کثافت (pollution) سے مکمل طور پر خالی تھیں۔ دنیائے صنعت جو انسان نے بنائی وہ کثافتوں کا ناقابل حل مسئلہ بھی اپنے ساتھ لائی ہے۔
مزید غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ دنیائے فطرت اور دنیائے صنعت کے بعد اب انسانی تاریخ کا تیسرا مرحلہ سامنے آنے والا ہے جس کو دنیائے جنت کہا جاسکتا ہے۔ یہ دنیائے جنت کامل بھی ہوگی اور ابدی بھی اور اسی کے ساتھ مکمل طور پر کثافت سے خالی (pollution free) بھی۔ تاریخ انسانی کے ابتدائی دو مرحلوں میں ہر ایک کو زندگی کے مواقع حاصل تھے مگر تاریخ بشری کے تیسرے مرحلہ میں صرف ان خوش قسمت لوگوں کو جگہ ملے گی جنہوں نے اس سے پہلے کے مرحلوں میں اس استحقاق کا ثبوت دیا ہو کہ وہ تکمیلی مرحلہ حیات میں بسائے جانے کے قابل ہیں۔ اس کانفرنس میں میرے سوا ایک اور مسلم اسکالر بھی آئے تھے۔
۲۶ جولائی کی صبح کو ناشتہ پر ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ قرآن میں پیغمبر کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: وجاهدهم به جهادًا كبيرا (الفرقان ۵۲)۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ ظاہر ہے کہ جہاد کبیر کے لئے قوت کبیر درکار ہے۔ آپ کسی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم پنسل کے ذریعہ بڑی لڑائی کرو۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues