Al-Risala · March 2002 · page 65

Let truth prevail

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۶۵

نظر میں قرآن خود ایک بڑی طاقت ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بڑا جہاد کرو بڑی طاقت کے ذریعہ جیسا کہ قرآن ہے :

Do great jihad with the great power that is the Quran. اس سے مزید یہ نکلتا ہے کہ نظریہ کی طاقت تمام طاقتوں سے زیادہ بڑی طاقت ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کا حکم دینے کا کوئی مطلب نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ نظریاتی طاقت سیاسی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے :

Ideological power is greater than political power. صبح کو جب روشنی بڑھی تو پہاڑوں کے اوپر کوئی چیز نیچے اوپر حرکت کرتی ہوئی نظر آرہی تھی۔ معلوم ہوا کہ دو رسیوں کے ذریعہ کچھ لوگ اس عمل کی مشق کر رہے ہیں جس کو کوہ پیمائی (mountaineering) کہا جاتا ہے۔

سویٹر لینڈ کے زمانۂ قیام میں اس کے مختلف مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا۔ سویٹر لینڈ ایک ایسا ملک ہے جو گویا پورا کا پورا فطرت کا ایک گلدستہ ہے۔ اس وسیع گلدستہ میں جگہ جگہ خوبصورت آبادیاں ہیں جن میں اتنے کم آدمی رہتے ہیں کہ وہاں شور اور گندگی جیسی چیزوں کا کوئی وجود نہیں۔ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ ایک خوبصورت مقام پر ایک خوبصورت جھیل ہے۔ وہاں کچھ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کھیل رہے تھے اور خوشیاں منار ہے تھے۔ اس کو دیکھتے ہوئے مجھ پر ایک خاص تاثر قائم ہوا۔ مجھے مولا ناشبلی نعمانی کی مشہور نظم کا وہ شعر یاد آیا جو انہوں نے بمبئی کے قریب ریاست زنجیرہ کو دیکھ کر کہا تھا:

کہاں یہ لطف یہ منظر یہ سبزہ یہ بہارستان عطیہ تم کو یاد لکھنؤ ہوگی تو کیوں ہوگی میں نے سوچا کہ یہ خوش باش نو جوان جو اس خوبصورت دنیا کا لطف اٹھا رہے ہیں وہ بھلا آخرت کی یاد والی زندگی کیسے پسند کر سکتے ہیں جس میں آدمی کل کی مسئولیت میں اتنا زیادہ گم ہوتا ہے کہ آج کی پر بہار زندگی اس کے لیے ایک بے بہار زندگی بن جاتی ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ دنیا کی چیزیں شیریں ہیں اور سرسبز ہیں (حلوۃ خضرة) مگر اس کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page