Let truth prevail
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۶۶
یہ شیرینی اور سرسبزی آزمائش کے لئے ہے، نہ کہ حصول لذت کے لئے۔ جو لوگ دنیا کی لذتوں میں گم ہو جائیں وہ اپنے امتحان میں فیل ہو گئے اور جو لوگ ان لذتوں سے گزر کر آخرت کو پالیں وہ اللہ کی نظر میں کامیاب ٹھہریں گے۔
۲۶ جولائی کو ۱۱ بجے دن میں کا نفرنس کا پہلا اجلاس ہوا۔ اظہار خیال کی زبان انگریزی تھی۔ ہر ایک نے زیر بحث موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اکثر لوگوں نے اپنی تقریر میں مغربی ملکوں کی مذمت کی۔ یہی منظر مجھے مسلمانوں کے جلسوں میں بھی نظر آتا ہے۔ یہ بات بہت عجیب ہے کہ تمام لوگ مغربی تہذیب سے فائدہ اٹھار ہے ہیں۔ مگر عین اسی وقت تقریباً تمام لوگ مغربی ملکوں کی مذمت کرتے ہیں۔
دوپہر بعد کے اجلاس میں میری تقریر تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ نیوکلیئر ڈس آرمانٹ(nuclear disarmament) بلا شبہ وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی سنگینی کی بنا پر خود نیوکلیئر طاقتیں مثلاً روس اور امریکہ نیوکلیئر ہتھیار کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس مسئلہ پر اتفاق رائے نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیوکلیئر ہتھیار بڑی طاقت ہونے کی علامت بن گئے ہیں۔ اس لئے دونوں یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے نیوکلیئر ہتھیاروں کو ضائع کیا تو وہ بڑی طاقت ہونے کی حیثیت کو کھودیں گے۔ مگر میرے نزدیک یہ ایک غیر حقیقی بات ہے۔ دونوں طاقتوں میں سے کوئی طاقت اگر اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں کو ضائع کر دے تو اچانک اس کو ایک بہت بڑی حیثیت حاصل ہو جائے گی اور وہ ہے اخلاقی اعتبار سے بڑی طاقت (moral superpower) کا درجہ حاصل کرنا۔
میں نے بعض حدیثوں کی روشنی میں بتایا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر مرد دو عورت دوسرے مردو عورت کو اپنا بہن اور بھائی سمجھے۔ ہر مذہب والا دوسرے مذہب کا احترام کرے۔ اسلام صرف اکرام مسلم نہیں بلکہ اکرام انسان کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ مزاج ہر قسم کے تشدد اور نفرت کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اصل ضرورت یہ ہے کہ ان اعلیٰ انسانی قدروں کی ترویج کی جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues