Al-Risala · March 2002 · page 67

Let truth prevail

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۶۷

موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ طبقہ میں ایک عجیب وغریب صفت ہے۔ وہ ہے بے اصل نظریات کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرنا۔ یہ صفت خودان اہل علم کے لئے غرور (arrogance) کا ذریعہ ہے اور دوسروں کے لئے اجتماعی فساد کا ذریعہ۔ سوئزرلینڈ کی موجودہ کانفرنس میں بھی اسی قسم کے نمونے سامنے آئے۔ ایک پروفیسر نے ایک مغربی مصنف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر لوگ صرف اس تشدد کو جانتے ہیں جو گن اور بم کے ذریعہ سے چلا جاتا ہے مگر اس سے بھی زیادہ بڑا ایک تشدد ہے اور وہ ہے تنظیمی تشدد structural violence۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں اقتصادی تنظیمات جو غریبی اور بے روزگاری جیسے مسائل پیدا کرتی ہیں وہ تمام تشدد سے زیادہ بڑا تشدد ہیں۔ میرے نزدیک اس قسم کی باتیں صرف لفظوں کا کھیل ہیں۔ جس چیز کو تنظیمی تشدد کہا جاتا ہے وہ دراصل اجتماعی زندگی کے تحت پیدا ہونے والے چیلنج کے مظاہر ہیں۔ اسی چیلنج پر ہر قسم کی انسانی ترقیوں کا دارومدار ہے۔ اگر یہ چیلنج نہ ہو تو خود ترقی کا عمل رک جائے۔ عجیب بات ہے کہ تاریخ کے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اسی قسم کے لفظی کھیل میں مبتلا رہے ہیں۔

ڈارون کا بقاء اصلح (survival of the fittest) کا نظریہ، روسو کا سیاسی غلامی کا نظریہ، مارکس کا اقتصادی لوٹ کا نظریہ، سب اسی کی مثالیں ہیں۔ ان مفکرین کے خوبصورت الفاظ نے بے شمار لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کیا۔

موجودہ زمانہ میں کچھ نام نہاد اسلامی مفکرین نے بھی اسی قسم کی لفظی شاعری کی۔ اور بہت سے مسلمانوں کو فکری گمراہی میں مبتلا کر دیا۔ اسی میں سے ایک طاغوتی حکمرانی کا نظریہ ہے۔ اس بے بنیاد نظریہ نے جن مسلمانوں کو متاثر کیا ان کا یہ حال ہوا کہ وہ دو برائیوں میں سے ایک برائی کو لینے پر مجبور ہو گئے۔ یا تو وہ طاغوتی حکمرانی کو ختم کرنے کے نام پر کبھی نہ ختم ہونے والی لڑائی جاری کر دیں اور پھر اپنے آپ کو تباہ کر لیں۔ یا پھر طاغوتی نظریہ کے تحت ہر چیز کو اپنے لئے حرام سمجھتے ہوئے اس سے سمجھوتہ کر لیں۔ اور اس طرح غیر ضروری طور پر منافق بن کر زندگی گزاریں۔

۲ جولائی کی صبح ہوئی تو باہر دور سے مرغ کی بانگ سنائی دی۔ اسی کے ساتھ بعض چڑیوں کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page