Al-Risala · March 2002 · page 68

Let truth prevail

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۶۸

سریلی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے سوچا کہ یہ چڑیاں یہاں ٹھیک وقت پر صبح صادق کی آمد کا اعلان کر رہی ہیں۔ دہلی میں روزانہ میں صبح کے وقت ان آوازوں کو سنتا تھا۔ اور سوئٹزرلینڈ میں بھی وہ ٹھیک اسی طرح سنائی دے رہی ہیں۔ اس پر سوچتے ہوئے میرا ذہن فطرت کے با معنی نظام کی طرف گیا۔ فطرت کا نظام حکمت اور معنویت کا ایک عجیب خزانہ ہے۔ فطرت کو یہ آداب اس کے خالق نے سکھائے ہیں۔ فطرت کا مطالعہ خالق کی معرفت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

آدابِ فطرت پر غور کرتے ہوئے مجھے اس نوعیت کی کچھ اور باتیں یاد آئیں، مثلاً اقبال کا یہ شعر: سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی میں نے سوچا کہ اقبال ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان تھے۔ مگر عجیب بات ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو علم کے بجائے شاعری کا تحفہ دیا۔ انہیں چاہئے تھا کہ مسلمانوں کو آدابِ فرزندی کے بجائے آدابِ فطرت کے رموز بتائیں۔ آدابِ فطرت کے رموز کا مطالعہ آدمی کے اندر سچائی کی معرفت پیدا کرتا ہے۔ جب کہ ”آدابِ فرزندی“ اس شعر میں محض ایک ادبی ترکیب ہے۔ حضرت اسماعیل نے اپنے والد حضرت ابراہیم کے جواب میں جو کچھ کیا وہ استثنائی نوعیت کا ایک پیغمبرانہ معاملہ تھا۔ اگر کوئی عام باپ ایک خواب دیکھے اور اس کی بنیاد پر اپنے بیٹے سے کہے کہ مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں تم کو ذبح کروں تو بیٹے کے لئے ہرگز جائز نہ ہوگا کہ اپنی گردن باپ کی چھری کے نیچے دے دے۔ اقبال کا شعر جس ”آدابِ فرزندی“ کی تعلیم دیتا ہے وہ آداب سرے سے مطلوب ہی نہیں۔ ۲ جولائی کی رات کو جب کہ میں سوئٹزرلینڈ کے مذکورہ ہوٹل میں سویا ہوا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ مشہور فلم اسٹار امیتابھ بچن اتفاقاً کسی وجہ سے میرے گھر میں آئے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ نے بہت پیسہ کما لیا ہے اب آپ کچھ اور کام کیجئے ۔ زندگی میں پیسہ ہی سب کچھ نہیں ۔ پیسہ کے سوا کچھ اور برتر چیزیں ہیں جنہیں انسان کو جاننا چاہئے۔ میں نے کہا کہ آپ دوبارہ کسی دن ہمارے یہاں آئیے اور ہمارے ساتھ ہمارا سادہ کھانا کھائیے۔ پھر اطمینان کے ساتھ آپ سے باتیں ہوں گی۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ پیسہ اور شہرت جیسی چیزوں سے اوپر اٹھ کر سوچیں اور اپنی زندگی کی از سر نو منصوبہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page