Let truth prevail
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۶۹
بندِی (replacing) کریں۔
کانفرنس کے شرکاء میں جو غیر مغربی ملکوں کے لوگ تھے ان میں اکثر افراد ایسے تھے جو اچھی انگریزی بولتے تھے۔ مثلاً تھائی لینڈ کے ڈاکٹر چیتانا گا جرا (Chetana Nagavajara)۔ میں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ سب کے سب امریکہ یا برطانیہ جیسے ملکوں کے پڑھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ مغربی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھتے تھے۔ وہ اچھی انگریزی زبان میں کتابیں لکھ کر شائع کرتے ہیں۔ ان وجوہ سے وہ تعلیم یافتہ طبقوں میں نمایاں ہو جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ یہ لوگ اسی پچھلی نسل کے بیٹے اور پوتے ہیں جنہوں نے مغربی اقتدار کو سب سے بڑی برائی بتا کر اس سے نجات کے لیے ہنگامہ خیز تحریکیں چلائی تھیں ۔ ایک شخص کے الفاظ میں جن مغربی زنجیروں کو ہمارے باپ دادا نے لوہے کی زنجیریں سمجھ کر کاٹا تھا اسی کو ہم نے سونے کی زنجیر سمجھ کر خود سے اپنے پیروں میں ڈال لیا۔
یہ برائی جس طرح غیر مسلم لوگوں میں ہے اسی طرح وہ مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ آپ کو ہر ملک میں ایسے مسلمان ملیں گے جو اپنی ہر تقریر اور تحریر میں نہایت جوش کے ساتھ امریکہ کو اسلام دشمن بتائیں گے۔ مگر پہلا موقع ملتے ہی وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کو امریکہ بھیجنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ تاکہ وہ وہاں سٹل (settle) ہو کر کامیاب مادی زندگی حاصل کر سکیں۔ یہ کیسا عجیب اسلامی جہاد تھا جس کا نتیجہ غیر اسلام کی صورت میں برآمد ہوا۔
ایک بدھسٹ پیشوا بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ وہ تبت کے ان پناہ گزینوں میں سے ہیں جو تبت میں چینی غلبہ کے بعد وہاں سے نکل کر دوسرے ملکوں میں چلے گئے۔ یہ تبتی لوگ ابھی تک مختلف ملکوں میں غیر شہری کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی حیثیت ابھی تک بے جگہ افراد کی ہے۔ اس صورت حال کے نتیجہ میں ان لوگوں کے اندر سخت قسم کی منفی )displaced persons( ذہنیت پیدا ہو گئی ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ سوئزر لینڈ کی کانفرنس میں ہوا۔ مذکورہ بدھسٹ پیشوا جو اس کانفرنس میں آئے تھے ان کو میں عرصہ سے جانتا ہوں۔ بظاہر وہ ایک ملنسار اور نرم گفتار آدمی ہیں۔ مگر
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues