Al-Risala · March 2002 · page 70

Let truth prevail

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۷۰

انہوں نے کانفرنس میں اپنا جو لمبا مقالہ پڑھا وہ تقریباً پورا کا پورا منفی اسلوب سے بھرا ہوا تھا۔ اس میں مغربی ممالک ، مغربی تہذیب اور مغربی زبان ہر چیز سے نفرت کا اظہار ہوتا تھا۔ ان لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ چین نے جب تبت پر فوجی قبضہ کر لیا اور اس کے بعد یہ لوگ وہاں سے نکل کر ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں منتشر ہو گئے تو کسی ملک نے ان کا ساتھ دے کر چینیوں کو تبت سے نہیں نکالا۔ بلکہ اپنے مفاد کے تحت ہر ملک نے چین سے دوستی قائم کرلی۔ یہی وہ سیاسی شکایت ہے جس کے نتیجہ میں تبتیوں کے اندر مغربی ملکوں سے نفرت کا مزاج پیدا ہو گیا۔ ٹھیک یہی معاملہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا بھی ہے۔ موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مسلمان مغربی قوموں سے نفرت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے خیال کے مطابق، یہی قومیں ہیں جنہوں نے موجودہ زمانہ میں انہیں سیاسی مغلوبیت سے دوچار کیا ہے۔ چنانچہ موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام لکھنے والے اور بولنے والے مسلمان نفرت کی بولی بولتے ہیں۔ اور نفرت کی تحریریں لکھ کر چھاپتے ہیں۔

میرے نزدیک یہ منفی ذہنیت ایک قسم کی نفسیاتی خودکشی کے ہم معنی ہے۔ قرآن کے مطابق، موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں سیاسی ایام ہمیشہ کسی ایک کے حق میں نہیں رہیں گے بلکہ وہ بدلتے رہیں گے (وتلک الايام نداولها بين الناس، آل عمران ۱۴۰)۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کی منفی سوچ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا ذہن ہمیشہ ماضی کی یادوں میں اٹکا رہے۔ وہ مستقبل کے اعتبار سے اپنی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ یا پھر یہ کہ وہ دہرا سوچ کا شکار ہو جائے۔ یعنی ماضی کے بارے میں معیاری طرزِ فکر اور حال کے بارے میں منافقانہ طرزِ فکر۔ یعنی ایک طرف جو کچھ ہو رہا ہے اس کو وہ باطل سمجھے اور دوسری طرف اسی باطل سے سمجھوتہ کرکے اس کے اندر اپنے ذاتی مفادات کو محفوظ کرنے کی کوشش کرے۔ اس کا ذہن فکری اعتبار سے جس نظام کو رد کر رہا ہے اسی نظام کو وہ ذاتی مفاد کی خاطر عملاً قبول کرلے۔

سوئزر لینڈ کے جس محل نما ہوٹل میں ہم کو ٹھہرایا گیا تھا وہ اپنی مخصوص تعمیر اور اپنے جائے وقوع

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page