Al-Risala · March 2002 · page 71

Let truth prevail

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۷۱

دونوں کے اعتبار سے غیر معمولی حد تک شاندار تھا۔ اس کے تعارف نامہ میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: One of the leading hotels of the world. مجھے ہوٹل کے جس وسیع اور مرصع کمرہ میں ٹھہرایا گیا تھا، میں اس کے باتھ روم میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کم از کم دس قسم کے تولیے رکھے ہوئے ہیں، ہر کام کے لئے ایک الگ تولیہ۔ یہ ایک علامت ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ چیزیں جن کو سامانِ تعیش کہا جاتا ہے وہ کس قدر بے معنی ہیں۔ مادی سامان کے اعتبار سے چیزوں کی تین تقسیم کی گئی ہے_ ضرورت، راحت اور عیش: Necessity, Comfort, Luxury میرے تجربہ کے مطابق ،کسی انسان کے لئے ضروری سامان کا حصول ہی بالکل کافی ہے۔ اگر کوئی شخص اس پر قانع ہونے کے لئے تیار نہ ہو تو اس کے لئے آخری حد راحت ہے۔ اس کے بعد تعیش صرف بیجا اسراف ہے۔ وہ کسی انسان کو زیادہ سے زیادہ فرضی تسکین دے سکتا ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں آرام وسکون۔

سوئیز رلینڈ کو ایک پر امن ملک کہا جاتا ہے۔ وہ دور جدید کی بہت سی امن پسند تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ۱۹۲۰ میں اسی ملک کے شہر جنیوا میں پہلی جمیعیۃ اقوام (League of Nations) قائم ہوئی۔ جس نے بعد کو ۱۹۲۵ میں اس زیادہ بڑے عالمی ادارہ کی صورت اختیار کی جس کو اقوام متحدہ (United Nations) کہا جاتا ہے۔ اس عالمی تنظیم نے تاریخ میں پہلی بار اس دور کو ختم کیا جب کہ ہر حکمران کا یہ حق سمجھا جاتا تھا کہ وہ اپنی فوج لے کر جس ملک میں چاہے گھس جائے اور اس پر قبضہ کر کے اس کو اپنی مملکت میں شامل کرلے۔

۱۹۲۰ میں جب جمیعیۃ اقوام (League of Nations) بنی اور جنیوا میں اس کا ہیڈ کوارٹر قائم ہوا اس وقت اقبال نے اپنے ایک فارسی شعر میں اس پر یہ تبصرہ کیا تھا:

چیست جمیعیۃ اقوام کفن دزدے چند بهر تقسیم قبور انجمنِ ساخته اند یہ تبصرہ یقینی طور پر ایک بے حقیقت تبصرہ تھا۔ اقبال اور ان کے جیسے دوسرے لوگوں کے اس قسم

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page