She has good reputation of punctuality.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۴
ایک صاحب نے خاتون وزیر اعظم کے بارے میں کہا:
She has good reputation of punctuality.
جب وہ ہال میں داخل ہوئیں تو انہوں نے السلام علیکم کہا۔ وہ بات بات میں مسکراتی تھیں ۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا:
My people are religious indeed. There is no doubt about it, but they are not fanatics. شیخ حسینہ کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ ایک ذہین خاتون ہیں۔ مثلاً انہوں نے بتایا کہ جب میں ایک سرکاری دورہ پر دلّی گئی تو اس وقت انڈیا اور پاکستان کے درمیان سخت تناؤ کا ماحول تھا۔ اتفاق سے جس دن شیخ حسینہ دلّی پہنچیں اس دن یہاں تیز بارش ہو رہی تھی۔ کسی اخبار نویس نے پوچھا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جو تناؤ چل رہا ہے اس میں آپ کا رول کیا ہے۔ انہوں نے بارش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں بارش کے ساتھ آئی ہوں تاکہ تناؤ کی فضا کو کم کروں :
I have come here with rains to cool down tempers. شیخ حسینہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی صاحب زادی ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، بنگلہ دیش بننے کے بعد ۱۹۷۵ میں شیخ مجیب الرحمن اور ان کے گھر والوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ شیخ حسینہ صرف اس لیے قتل ہونے سے بچ گئیں کہ اس وقت وہ بنگلہ دیش سے باہر تھیں۔ چنانچہ شیخ حسینہ اپنے آپ کو بنگلہ دیش میں غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔ اس مسئلہ کا حل انہوں نے یہ نکالا ہے کہ انہوں نے بنگلہ دیش اسمبلی سے ایک ایسا قانون پاس کروایا ہے جس کے مطابق انہیں اپنے سیاسی عہدہ سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی ساری عمر خصوصی سیکورٹی حاصل رہے۔ میرے نزدیک یہ تحفظ سراسر ناکافی ہے۔ ان کے لیے اصل تحفظ کی بات یہ تھی کہ وہ شیخ مجیب الرحمن کے قاتلوں کو معاف کر دیں تاکہ ان کا جذبہ انتقام ٹھنڈا ہو جائے۔ مگر انہوں نے حکومت میں آنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ شیخ مجیب الرحمن کے قاتلوں کے خلاف سرکاری اور عدالتی کارروائی شروع
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues