Let truth prevail
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۷۲
کے تبصروں سے مسلمانوں میں جدید مغربی چیزوں کے خلاف سخت قسم کا منفی ذہن پیدا ہوگیا۔ اسلام کی تعلیم یہ تھی کہ عصر میں بھی یہ سر کو دیکھو۔ منفی میں بھی مثبت پہلو تلاش کرو۔ مگر اقبال جیسے لوگوں نے مسلمانوں کی برعکس ذہن سازی کی۔ اسی معکوس ذہن سازی نے مسلمانوں کا یہ حال کیا ہے کہ وہ جدید دنیا میں دوسری قوموں سے الگ تھلگ ہو کر رہ گئے۔ وہ نہ خود اپنی دنیا تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے اور نہ وہ دوسروں کی بنائی ہوئی دنیا کا اعتراف کر سکے۔
۲ جولائی کے اجتماع میں روس کے ایک نمائندہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بہتر دنیا کی تعمیر کا خواب ریولوشن (revolution) کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔ اس پر یہ سوال تھا کہ سوویت یونین میں تو ریولوشن آیا پھر وہاں بہتر دنیا کیوں تعمیر نہیں ہوئی۔ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ کمیونسٹ ریولوشن میں روحانیت کے عنصر کی کمی اس کی ناکامی کا سبب تھی۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بتایا کہ لینن نے اپنے آخری وقت میں کہا تھا کہ ہمیں مارکس کے ساتھ ایک فرانس آف ایسی کی ضرورت تھی۔ یہ تو جبہ نہیں بلکہ وہ ایک قسم کی خود فریبی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر روسی سوشلزم کے پاس کوئی فرانس آف ایسی نہ تھا تو ہندستانی سوشلزم کا وہی انجام کیوں ہوا جہاں گاندھی کی صورت میں گویا ایک فرانس آف ایسی موجود تھا۔ اصل یہ ہے کہ سوشلزم یا کمیونزم ایک غیر فطری نظریہ ہے اس لئے کسی بھی حال میں اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ فطرت کے مطابق، اقتصادیات کی مشین کو چلانے کے لئے ذاتی انٹرسٹ کا محرک ضروری ہے۔ سوشلزم یا کمیونزم میں یہ محرک ختم ہو جاتا ہے۔ اور جہاں ذاتی انٹرسٹ کا محرک نہ ہو وہاں کوئی اقتصادی نظام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ فطرت کی اس کمی کو کسی فرانس آف ایسی کے ذریعہ پورا نہیں کیا جا سکتا۔
سوئزر لینڈ کی اس کانفرنس میں میرے لئے ایک خاص سبق تھا۔ یہ سبق پروفیسر چندر مظفر کی زندگی میں ملتا ہے۔ وہ دونوں پاؤں سے معذور ہیں۔ چنانچہ وہ ہمیشہ ویل چر پر رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن کی عمر میں ان کو پولیو ہو گیا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنے پیروں سے چلنے پھرنے کے قابل
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues