Al-Risala · March 2002 · page 73

Let truth prevail

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۷۳

نہ رہے۔ اس حادثہ کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ وہیل چیئر پر انہوں نے اپنی پوری تعلیم مکمل کی۔ اب وہ ملیشیا کے ایک بڑے ادارے کے ذمہ دار ہیں۔

چندر مظفر صاحب نے اپنی محنت اور لگن کی بدولت امتیازی لیاقت حاصل کرلی۔ وہ اچھی انگریزی لکھتے اور بولتے ہیں۔ ان کی کئی کتابیں انگریزی زبان میں شائع ہوچکی ہیں۔ میں نے سوچا کہ چندر مظفر صاحب جیسے افراد گویا خدا کی طرف سے ایک رہنما کھمبا(sign post) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ خاموش زبان میں لوگوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ خدا نے انسان کو اتنی زیادہ صلاحیت دی ہے کہ دونوں پیروں سے معذور شخص بھی ممتاز علمی مقام حاصل کر سکتا ہے، پھر جو لوگ جسمانی اعتبار سے معذور نہیں ہیں وہ کتنا زیادہ ترقی کر سکتے ہیں۔

پروفیسر چندر مظفر ملایا کی یونیورسٹی میں سینٹر آف سولائزیشنل ڈائیلاگ کے ڈائرکٹر ہیں۔ وہ انٹرنیشنل موومنٹ فار اے جسٹ ورلڈ کے پرزیڈینٹ ہیں۔ وہ آلی ران (Aliran Kesedaran Nagara) کے فاؤنڈر پرزیڈینٹ ہیں۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔

پروفیسر چندر مظفر ۱۹۷۰ء میں ملیشیا کے ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۵۱ء میں ان کو پولیو ہوگیا جس کے نتیجہ میں ان کا ایک پاؤں مکمل طور پر اور دوسرا پاؤں بڑی حد تک معذور ہوگیا۔ ان کی تعلیم سنگاپور میں ہوئی۔ انہوں نے ۱۹۷۴ء میں اسلام قبول کیا۔ انہوں نے اپنے بارے میں ایک عجیب بات بتائی۔ ان کا خاندان کیرالا سے ہجرت کرکے ملیشیا آیا تھا۔ جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے باپ نے ہندو دستور کے مطابق، ان کی تاریخ پیدائش لکھ کر کیرالا کے ایک پنڈت کو بھیجی تا کہ وہ ان کی جنم پتری نکالے۔ ان کے بیان کے مطابق، پنڈت نے دو باتیں بتائیں۔ ایک یہ کہ اس بچہ کو کوئی سخت بیماری ہو جائے گی۔ دوسری بات یہ کہ وہ اپنا دھرم چھوڑ کر اسلام قبول کرلے گا۔ عجیب بات ہے کہ پنڈت کی بتائی ہوئی دونوں باتیں سچ ثابت ہوئیں۔

پروفیسر مظفر سے میں نے پوچھا کہ آپ اتنے سخت عارضہ کا شکار ہوئے کہ آپ کو مستقل طور پر وہیل چیئر پر رہنا پڑا۔ ایسی حالت میں آپ نے اسکول سے ڈاکٹریٹ تک کی تعلیم کیسے حاصل کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page