Al-Risala · March 2002 · page 75

Let truth prevail

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۷۵

عقیدہ اتنا پیچیدہ اور اس قدر نا قابل فہم ہے کہ مسیحی علماء بھی اس کی تشریح کرنے سے عاجز ہیں۔ میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم نے بتایا کہ جب وہ دہلی یونیورسٹی میں انگلش لٹریچر سے ایم اے کر رہی تھی تو ایک بار کسی کتاب میں تثلیث کا ذکر آیا۔ انہوں نے اپنے مسیحی استاد (پروفیسر جارج) سے پوچھا کہ تثلیث کے عقیدہ کا مطلب کیا ہے۔ عیسائی پروفیسر نے کچھ دیر سوچا، اس کے بعد کہا کہ اگر تم پوچھو تو میں نہیں جانتا اور اگر تم نہ پوچھو تو میں جانتا ہوں :

If you ask me I do not know, if you do not ask me I know. آج جولائی ۲۰۰۱ کی ۲۸ تاریخ ہے اور صبح کا وقت۔ میں اپنے کمرہ میں اس کے قد دیوار شیشہ کے پاس کھڑا ہوا ہوں۔ صاف وشفاف شیشہ کے باہر فطرت کی حسین دنیا دکھائی دے رہی ہے۔ ہر طرف مکمل سناٹا ہے۔ اس سناٹے میں صرف ایک آواز سنائی دے رہی ہے اور وہ چڑیوں کا صبح کا نغمہ ہے۔ سوچتے ہوئے میرے ذہن میں آیا کہ خدا نے ایک عظیم دنیا بنائی، صرف اس لئے تا کہ کوئی اللہ کا بندہ اس کو دیکھ کر یہ کہہ سکے کہ ربنا ما خلقت هذا باطلا (آل عمران)۔ اس نے اپنی اس دنیا میں انتہائی بامعنی مناظر پیدا کئے ۔ یہ مناظر گویا خاموش زبان میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ کیا کوئی دیکھنے والا ہے جو قدرت کے اس شاہکار کو دیکھے۔ اس نے چڑیوں کے نغمے اور چشموں کی سریلی موسیقی جیسی آوازیں پیدا کیں ، اس لئے کہ کیا کوئی سننے والا ہے جو اسے سنے اور اپنی روح کو ربانی احساس سے سرشار کرے۔ اس نے وسیع کائنات کی صورت میں ایک انتہائی بامعنی دنیا پیدا کی جو گویا زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ کیا کوئی غور کرنے والا ہے جو اس پر غور کرے اور اس سے نصیحت لے۔ ایک تجربہ گزرا جس کے بعد میں نے سوچا کہ انسانوں میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ایک بار اختلاف کر دیں تو اس کے بعد وہ اس پر اس طرح جم جائیں کہ وہ اپنے اختلاف کو کبھی ختم نہ کریں۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو اختلاف کے ساتھ اعتراف کرنا بھی جانتے ہوں۔ جن کے اختلاف کی ایک حد ہو، ایک حد کے بعد وہ اپنا اختلاف ختم کر دیں اور دل میں کوئی شکایت رکھے بغیر فریق ثانی کے ساتھ متحد ہو جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page