Let truth prevail
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۷۶
سوئٹزر لینڈ کے اس سفر میں ایک خاتون پروفیسر بیٹینا باؤمر (Bettina Baumer) تھیں ۔ وہ بیلجیئم کے ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئیں ۔ اس کے بعد انہوں نے کئی زبانیں سیکھیں جن میں سنسکرت بھی شامل ہے۔ وہ کئی سال تک بنارس ہندو یونیورسٹی میں پروفیسر رہیں۔ آج کل وہ اپنی دوسری مصروفیات کے علاوہ بنارس کے ایک ہندو ادارہ کے تحت ہندو شاستروں کا جرمن ترجمہ کررہی ہیں۔
انہوں نے کئی دلچسپ باتیں بتائیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ ۱۹۶۹ء میں جب امریکی خلا باز نیل آرام سٹرانگ اپنی خلائی گاڑی میں سفر کر کے چاند پر اتر ا اور اس کی خبر ساری دنیا میں پھیلی تو بنارس کے پنڈتوں نے اس پر باقاعدہ بحث کی۔ ان کے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ چاند تو ایک دیوتا (god) ہے ۔ اس پر انسان کیسے چڑھ سکتا ہے۔ آخر کار یہ طے ہوا کہ اگر امریکی خلا باز واقعۃً چاند پر اترتا ہے تو یہ کوئی اور چاند ہوگا نہ کہ چاند دیوتا۔ مذکورہ پروفیسر خاتون نے اس کو انگریزی میں اس طرح بتایا: Whether this is the same moon which is in the Puranas. Finally they decided that it was not the same moon. ان سے میں نے کئی سوالات کئے ۔ ایک سوال یہ تھا کہ ہندوؤں میں آخری سچائی کے بارے میں دو نظریے پائے جاتے ہیں ۔ ایک دوئیت واد اور دوسرا ادویت واد۔ میں نے کہا کہ آپ نے ہندو فکر کا کافی مطالعہ کیا ہے۔ یہ بتائیے کہ ہندوؤں میں کیوں ادویت واد پھیلا اور دوئیت واد زیادہ نہ پھیل سکا جس کو مادھو چاریہ نے طاقت ور انداز میں پیش کیا تھا۔ انہوں نے ایک لمحہ سوچ کر کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ انسان بھگوان سے ایک ہونا چاہتے ہیں۔
ان کا مطلب یہ تھا کہ دوئیت واد کے تصور میں انسان الگ رہتا ہے اور خدا الگ ۔ ایک مخلوق ہوتا ہے اور دوسرا خالق ۔ مگر ادویت واد میں یہ دوئی یا علیحدگی نہیں۔ یہ نظریہ آدمی کو یہ تسکین دیتا ہے کہ میں خدا میں ہوں اور خدا مجھ میں ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں اس کے بجائے یہ تصور ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ خدا ہمارے وجود کا حصہ نہیں ، مگر وہ ہر لمحہ ہمارے قریب ہے، وہ ہماری پکار کو سنتا ہے اور ہماری مدد کرتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues