Al-Risala · March 2002 · page 77

Let truth prevail

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۷۷

سوئٹزر لینڈ کے سفر میں مختلف حلقے کے مذہبی اور غیر مذہبی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ان ملاقاتوں کے دوران اندازہ ہوا کہ بعض بنیادی سوالات ہیں جن کے بارے میں لوگوں کے ذہن بہت زیادہ غلط فکری میں مبتلا ہیں۔ ان امور کو واضح کرنے کے لئے ایک کتاب انگریزی زبان میں تیار کرنا ضروری ہے۔ اس کتاب کے کچھ ابواب یہ ہو سکتے ہیں:

۱۔ مذہبی ہم آہنگی کا فارمولا یہ نہیں ہے کہ ”ہر مذہب سچا ہے“ بلکہ یہ ہے کہ ہر مذہب قابل احترام ہے۔

۲۔ امن برائے امن ہوتا ہے، امن برائے انصاف نہیں ہوتا۔

۳۔ مسائل سے لڑنے کا نام پالیکس نہیں۔ مواقع کو استعمال کرنے کا نام پالیکس ہے۔ ملیشیا کے بارے میں کچھ باتیں معلوم ہوئیں جو میرے جیسے آدمی کے لئے افسوسناک تھیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، وہاں کافی ترقی ہو رہی تھی۔ اس کے بعد وہاں اسلام پسند طبقہ ابھرا۔ اس نے ہر جگہ حتی کہ تعلیم گاہوں میں بھی حکومت مخالف سرگرمیاں شروع کردیں۔ اس کے بعد حکومت نے یہ قانون بنا دیا کہ کالج اور یونیورسٹی میں سیاسی سرگرمی غیر قانونی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی سروس کو بچانے کے لئے منافق بن گئے ۔ دل میں حکومت کے مخالف اور زبان سے حکومت کے حامی۔ دوسرے لوگ وہ تھے جو اپنے مزاج کے مطابق، منافقت اختیار نہیں کرسکتے تھے چنانچہ انہوں نے اپنی مخالفانہ سیاست کا سلسلہ جاری رکھا جس کو وہ بطور خود اسلامی سیاست سمجھتے تھے۔ ایسے لوگ حکومت کے عتاب کی زد میں آئے اور مایوسی کا شکار ہوکر رہ گئے ۔ اس طرح کے معاملہ میں نام نہاد مسلم پریس ملیشیا کی موجودہ سیکولر حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے مگر میرے نزدیک اس کی اصل ذمہ داری نام نہاد اسلام پسندوں پر ہے۔ ان لوگوں کا سب سے پہلا کام ملیشیا کی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت تھا نہ کہ حکومت کو بدلنا۔ اسی غلط پالیسی کا وہ نتیجہ ہے جو پچھلے سالوں میں ملیشیا کے اندر پیش آیا۔ سوئٹزر لینڈ کی اس کانفرنس میں مختلف ملکوں کے پروفیسر اور اسکالر بلائے گئے تھے۔ میں واحد ”مولوی“ یا اسلامک اسکالر تھا جو اس کانفرنس میں بلایا گیا۔ کانفرنس کے آرگنائزر آندرے بائیکوف

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page