Al-Risala · March 2002 · page 78

Let truth prevail

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۷۸

(Andrey Bykov) تھے جنہوں نے اپنے ذاتی خرچ سے سوئٹر لینڈ کی اس کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ وہ اس سلسلہ میں امریکہ گئے۔ وہاں ان کی ملاقات لاس اینجلس میں ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی (ڈائریکٹر اسلامک سوسائٹی آرنج کاؤنٹی) سے ہوئی۔ مسٹر اندر نے ان سے کہا کہ ہم سوئٹر لینڈ میں ایک کانفرنس کرنے جا رہے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں ایک اسلام اسکالر کا نام بتائیے۔ چنانچہ ڈاکٹر صدیقی کی تجویز کے مطابق، انہوں نے مجھے اس کانفرنس میں بلایا۔ مسٹر آندر کے روایت کے مطابق، ڈاکٹر صدیقی نے اس کے لئے میرا نام تجویز کرتے ہوئے ان سے کہا:

He is the best man for the purpose you are seeking for. مسز اینا بائیکوف (Anne Bykov) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ روسی خاتون ہیں۔ وہ بھی اس کانفرنس میں شریک تھیں ۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا خطرہ ایٹمی ہتھیار ہے ایٹمی ہتھیاروں کا سب سے زیادہ ذخیرہ دو ملکوں کے پاس ہے، امریکہ اور روس۔ دونوں ملک ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ (nuclear disarmament) کی بات کرتے ہیں۔ مگر عملاً ابھی تک ایسا نہ ہوسکا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ دونوں ملک یہ چاہتے ہیں کہ یہ کام دوطرفہ بنیاد (bilateral basis) پر ہو یعنی دونوں ملک بیک وقت اپنے اپنے ہتھیاروں کو تباہ کردیں۔

میں نے کہا کہ ایسا ہونا ممکن نہیں۔ قابل عمل بات صرف یہ ہے کہ اس کام کو یک طرفہ بنیاد (unilateral basis) پر کیا جائے۔ میں نے کہا کہ اگر مجھ کو مشورہ دینا ہو تو میں کہوں گا کہ روس یکطرفہ طور پر اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو تباہ کردے۔ روسی کہیں گے کہ اس طرح تو ہم اپنے ایٹمی پاور ہونے کی حیثیت کو ختم کردیں گے۔ مگر یہ ایک فرضی اندیشہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روس اگر اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو یکطرفہ طور پر ختم کردے تو وہ امریکہ سے ایٹمی ہتھیار کی سیاست چلانے کا جواز چھین لے گا۔ مزید یہ کہ اس طرح روس کو مارل سپر پاور کی حیثیت حاصل ہو جائے گی جو بلاشبہ دوسری تمام طاقتوں سے زیادہ بڑی طاقت ہے۔ مذکورہ روسی خاتون نے میرے اس نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page