Al-Risala · March 2002 · page 79

No money, no toilette.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۷۹

۲۵ جولائی کو زیورک سے کنڈرسنگ کا سفر کرتے ہوئے درمیان میں ہم لوگ ایک ریسٹورنٹ پر ٹھہرے تھے۔ ہمارے ایک ساتھی نے بتایا کہ میں ریسٹورنٹ کے ٹائلٹ میں جانے لگا تو ایک خاتون نے مجھے روکا۔ اس نے کہا کہ اس ٹائلٹ کو ایک بار استعمال کرنے کی قیمت ایک فرانک ہے۔ پہلے آپ فرانک ادا کیجئے پھر ٹوائلٹ جایئے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو اس وقت آپ کو ادا کرنے کے لئے کوئی سکہ نہیں۔ اس نے کہا کہ سکہ نہیں تو ٹوائلٹ بھی نہیں :

No money, no toilette.

یہ ایک انوکھا تجربہ تھا۔ اگر کوئی شخص اس ایک تجربہ کو لے کر اسی کی بنیاد پر عمومی رائے قائم کرنے لگے تو وہ کہے گا کہ سوئسٹر لینڈ کے لوگ بہت خود غرض اور حریص ہوتے ہیں۔ ان کے اندر انسانی ہمدردی کا جذبہ نہیں۔ مگر اس کے بعد بہت سے اس سے مختلف تجربے پیش آئے جن سے اندازہ ہوا کہ مذکورہ ریسٹورنٹ کا واقعہ سوئسٹر لینڈ کے لوگوں کے اخلاق کو سمجھنے کے لئے کوئی نمائندہ واقعہ نہیں۔ وہ صرف ایک استثنائی واقعہ ہے۔ یہاں کے لوگ عام طور پر با اخلاق اور ہمدرد نظر آئے۔ تعلیم یافتہ طبقہ کی ایک خاص کمزوری وہ ہے جس کو جزلائزیشن کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اکثر کسی ایک واقعہ کو لے کر اس کو عمومی حیثیت دے دیتے ہیں اور سارے ملک اور ساری قوم کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ وہ ایسے اور ایسے لوگ ہیں۔

یہاں ایک مسیحی پادری سے گفتگو ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں کس اختلاف کو آپ زیادہ بنیادی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسیح کو ہم بھی مانتے ہیں، مسلمان بھی مانتے ہیں۔ مگر ہم مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور مسلمان مسیح کو خدا کا پیغمبر کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ خدا کا بیٹا کہنے پر آپ لوگوں کو کیوں اتنا اصرار ہے جب کہ خود انجیل سے یہ بات واضح طور پر ثابت نہیں ہوتی۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، انجیل میں مسیح کو ایک جگہ خدا کا بیٹا (Son of God) کہا گیا ہے مگر اسی انجیل میں دوسری جگہ مسیح کو یوسف کا بیٹا (Son of Joseph) کہا گیا ہے۔ اسی طرح بائیبیل میں عام انسان کے لئے بھی خدا کے بیٹے کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسیح کو لفظی معنوں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page