Al-Risala · March 2002 · page 80

No money, no toilette.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۸۰

میں ابن خدا ماننے کا عقیدہ خود مقدس انجیل میں بھی ثابت شدہ نہیں ہے۔

ایسا محسوس ہوا کہ وہ اس سوال پر اپنے آپ کو دفاعی پوزیشن میں پاتے ہیں۔ انہوں نے انجیل سے مسیح کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی البتہ وہ چرچ کا حوالہ دیتے رہے۔ جیسا کہ ظاہر ہے، وہ میرے سوال کے جواب کے لئے کافی نہ تھا۔

ان کو میں نے بتایا کہ میں نے کرسچینٹی اینڈ اسلام کے عنوان پر چھ صفحہ کا ایک مضمون لکھا ہے جو حسب ذیل کتاب میں شائع ہو چکا ہے:

Pilgrims to the light (2000)

ڈاکٹر چندر مظفر (ملیشیا) سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وہ ملیشیا کے اسلام پسند قائد انور ابراہیم کی اسلامی پارٹی کے ایک لیڈر ہیں۔ انور ابراہیم کی قید کے بعد ان کی بیگم آج کل ان کی پارٹی کی چیر مین ہیں اور ڈاکٹر چندر مظفر اس کے ڈپٹی چیر مین ہیں۔ وہ اردو یا عربی نہیں جانتے اس لئے ان سے گفتگو انگریزی میں ہوئی۔

میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی قانون کے نفاذ کے نام سے جو تحریکیں اٹھیں وہ سب کی سب اپنے طریق کار کے اعتبار سے غیر اسلامی تحریکیں تھیں۔ یہ تحریکیں اس نعرے پر اٹھائی گئیں کہ اقتدار پر قبضہ کر کے پورے اسلامی قانون کا نفاذ کیا جائے ۔ مختلف آیات اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلام میں تدرجی نفاذ کا طریقہ ہے نہ کہ فوری نفاذ کا طریقہ۔ انہوں نے کہا کہ آپ جن واقعات کی مثال دے رہے ہیں وہ اس وقت کی مثال ہے جب کہ پورا قرآن نہیں اترا تھا۔ اب جب کہ پورا قرآن اتر چکا ہے اور مکمل قرآن ہمارے پاس موجود ہے تو اب ہمیں بیک وقت پورا قرآن نافذ کرنا ہوگا۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ اس لئے کہ احکام کی تعمیل کا تعلق خود احکام کی فہرست سے نہیں ہے بلکہ تعمیل کرنے والے کی اپنی عملی استطاعت سے ہے (لا يكلف الله نفسًا الا وسعها ، البقره (٢٨٦)۔ معاشرہ کے اندر جیسی استطاعت ہوگی اسی کے مطابق، احکام کا نفاذ کیا جائے گا۔ اور جن احکام کے نفاذ کی استطاعت بر وقت نہ ہو ان کے بارے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page