Al-Risala · March 2002 · page 81

No money, no toilette.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۸۱

میں تعلیم و تربیت سے آغاز کیا جائے گا، نہ کہ عملی نفاذ سے۔ انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا۔ ۲۹ جولائی کی صبح کو خاموش پر پر (silent prayer) کا پروگرام تھا۔ لوگ ایک کمرے میں اکٹھا ہوئے اور دوزانو ہو کر اور آنکھیں بند کر کے خاموش بیٹھ گئے۔ آدھ گھنٹہ تک وہ اسی حال میں رہے۔ ہر ایک اپنے مذہب کے مطابق ، پریئر کرتا رہا۔ آدھ گھنٹہ پورا ہونے پر ایک ہلکی گھنٹی بجائی گئی اس کے بعد سب لوگ اٹھے اور خاموشی کے ساتھ باہر چلے گئے۔

خاموشی کی اہمیت ہر مذہب میں تسلیم کی گئی ہے۔ ایک بار میری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی ۔ وہ جاپان میں مقیم تھا اور خاموشی (silence) پر ریسرچ کر رہا تھا۔ میں نے اس کو ایک حدیث رسول سنائی جس کے الفاظ یہ ہیں : من صمت نجا (الترمذی، احمد) جو چپ رہا اس نے نجات پائی۔ وہ نوجوان بہت خوش ہوا اور فوراً اس حدیث کو اپنی ڈائری میں لکھ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں روایات میں آیا ہے : کان طويل الصمت قليل الضحك (مسند احمد)۔ آپ دیر تک چپ رہا کرتے تھے۔ چپ رہنا ذکر و فکر کی علامت ہے۔ چپ رہنا کوئی سلبی فعل نہیں بلکہ وہ ایجابی فعل ہے۔ چپ رہنا مکمل معنوں میں ایک ذہنی عمل ہے البتہ جس آدمی کا ذہن جتنا زیادہ بیدار ہو گا اتناہی زیادہ اس کا چپ رہنا با معنی ہوگا۔ ۲۹ جولائی کی صبح ہوئی تو حسب معمول میں نماز فجر کے بعد ٹہلنے لگا اور باہر کی دنیا کو دیکھنے لگا۔ جلد ہی مجھے محسوس ہوا کہ اس بظاہر خوبصورت دنیا میں جو کش مجھے پہلے دن نظر آئی تھی وہ اب پانچ دن گزارنے کے بعد محسوس نہیں ہو رہی ہے۔ مجھے رسول اللہ ﷺ کا یہ قول یاد آیا : اللهم لا عيش الا عيش الآخرة (البخاری مسلم، الترمذی، ابن ماجه، مسند احمد) اے اللہ آخرت کے عیش کے سوا کوئی عیش نہیں۔ میں نے سوچا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دنیا ہمارے لئے پر مسرت جگہ نہیں بنتی۔ جب کہ مذکورہ حدیث کے مطابق، آخرت والی جنت ایک مکمل مسرت کی جگہ ہوئی ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کسی ایک چیز سے زیادہ دیر تک خوش نہیں رہ سکتا ۔ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے ہر روز نیا سامان مسرت پانا چاہتا ہے۔ یہ نیا پن صرف لامحدود جنت میں ممکن ہو گا۔ موجودہ محدود دنیا میں لا محدود

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page