Al-Risala · March 2002 · page 82

No money, no toilette.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۸۲

مسرت ممکن نہیں۔ اس لئے یہاں انسان مسلسل طور پر خوش بھی نہیں رہ سکتا۔

30 جولائی کو صبح ہوئی اور سورج نکلا تو اس کو دیکھ کر ایک بات میرے ذہن میں آئی۔ میں نے سوچا کہ اس واقعہ کو ساری دنیا میں ’سورج نکلا اور سورج ڈوبا‘ کے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ مگر یہ صرف ایک ادبی اسلوب ہے۔ حقیقی اعتبار سے کہنا ہو تو یہ کہا جائے گا کہ میرا نھطہ ارضی سورج کے سامنے آیا یا میرا نھطہ ارضی سورج سے اوجھل ہو گیا۔ مگر کسی بھی زبان میں طلوع و غروب کے واقعہ کو اس طرح بیان نہیں کیا جاتا۔ اور اگر کوئی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلوع و غروب کو اس انداز میں بیان کرے تو کلام کا ادبی حسن ختم ہو جائے گا۔ وہ ایک خشک اور غیر دلچسپ بیان ہو کر رہ جائے گا۔ انسانی کلام میں ہر آدمی جانتا ہے کہ اس طرح کی چیزوں میں ہمیشہ مروجہ اندازِ کلام کا اعتبار کیا جائے گا، نہ کہ حقیقی اعتبار سے امرِ واقعہ کا۔ مگر جب معاملہ مقدس کتاب کا ہو تو ہر آدمی اس کو لفظی اعتبار سے لے لیتا ہے، نہ کہ اسلوب کے اعتبار سے۔

مثال کے طور پر مسیحی لٹریچر میں حضرت عیسیٰ کے لئے ابن اللہ کا لفظ آیا ہے۔ یہ لفظ یقینی طور پر عبد اللہ کے معنی میں ہے۔ مگر مسیحی حضرات نے اس کو ٹھیک لفظی معنی میں ابن اللہ کو حقیقی کے مفہوم میں لے لیا اور حضرت مسیح کے دین میں ایک زبردست گمراہی داخل کر دی۔ یہی معاملہ ہر مذہب کی مقدس کتاب میں ہوا ہے۔ یہی غلطی خود مسلمانوں نے بھی کی۔ قرآن میں قلب کا لفظ سوچنے اور غور کرنے کے حوالے سے آیا ہے۔ مثلاً لہم قلوب لا يفقهون بها (الاعراف، ۱۷۹) اس بنا پر بہت سے لوگوں نے سمجھ لیا کہ قلب فکر و تدبر کا مرکز ہے۔ مگر اس قسم کی تفسیر درست نہیں۔ قرآن میں یہ اسلوب انسانی کلام کی رعایت سے ہے۔ چونکہ تمام انسانی زبانوں میں قلب کا استعمال اسی انداز میں ہو رہا تھا اس لئے قرآن میں بھی اسی اسلوب کو اختیار کیا گیا ورنہ امر واقعہ یہ ہے کہ قلب دوران خون کا مرکز ہے اور دماغ فکر و تدبر کا مرکز۔

میں اپنی عادت کے مطابق، صبح کو اول وقت ناشتہ کرتا ہوں ۔ چنانچہ آج بھی میں صبح ے بجے نیچے ڈائننگ ہال میں گیا۔ ناشتہ سے واپسی میں حسب معمول میں لفٹ کو چھوڑ کر زینہ سے اوپر چڑھ رہا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page