Al-Risala · March 2002 · page 83

No money, no toilette.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۸۳

تھا۔ دوسری طرف سے برطانیہ کے بشپ سائمن آ رہے تھے۔ میں اپنے خیالات میں گم تھا کہ انہوں نے گڈ مارننگ کہا۔ ان کی آواز پر میں اپنے خیال کی دنیا سے نکلا اور میں نے بھی گڈ مارننگ کہا۔ اس وقت میرے دماغ میں ایک خیال گونج رہا تھا جس کو میں نے ان سے ان الفاظ میں کہا: One who lives in his own greatness, cannot experience the greatness of God. God lives where modesty is. Modesty is the only meeting point of man and God. Arrogance is not the meeting point. ایک اور پہلو سامنے آیا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کی انگریزی بہت اچھی ہے، میں انگریزی زبان میں آپ کا شاگرد ہوں:

Your English is very good. I am your disciple in English language. اس کے بعد انہوں نے فوراً کہا:

You are far ahead in spirituality. And I am your disciple in spirituality. ۳۰ جولائی کی صبح کو ہم لوگ ہوٹل سے سوئٹزرلینڈ کے شہر ژُگ (Zug) گئے ۔ ژُگ ایک قدیم شہر ہے۔ یہاں ۶۰۰ سال پرانی ایک بڑی عمارت ہے جو شاہی دور میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس کے ہال میں کانفرنس کا آخری اجلاس ہوا۔ اس میں ژُگ شہر کے کچھ اعلیٰ ذمہ دار بھی شریک تھے۔ یہاں کچھ ابتدائی تقریبات ہوئیں ۔ اس کے بعد کانفرنس کی طرف سے بشپ سائمن نے ایک مختصر ڈیکلیریشن پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد میرا تیار کیا ہوا تین صفحہ کا ڈاکومنٹ (document) پڑھ کر سنایا گیا۔ یہ گویا مختصر ڈیکلیریشن کی تفصیل تھی۔

کانفرنس میں یہ طے ہوا تھا کہ اس کا آخری اجلاس سوئٹزرلینڈ کے تاریخی شہر ژُگ میں ہوگا جہاں ایک مختصر اور متفقہ ڈیکلیریشن پیش کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ ایک کسی قدر تفصیلی ڈاکومنٹ جاری کیا جائے گا اور اس ڈاکومنٹ کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کر کے پوری دنیا میں پھیلایا جائے گا۔ اس تشریحی ڈاکومنٹ کو تیار کرنے کے لئے کانفرنس کے پروفیسر صاحبان کے تین گروپ بنائے گئے۔ ایک روسیوں کا، دوسرا مغربی ملکوں کا اور تیسرا ایشیائی ملکوں کا۔ اور یہ کہا گیا کہ ان تینوں میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page